اسلام آباد/گلگت (ایم این این): وزیر اعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام کو کامیاب، پرامن، شفاف اور جمہوری جذبے سے بھرپور عام انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کو خطے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بننے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
پیر کو جاری اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے جمہوری عمل میں بھرپور شرکت کر کے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی کامیابی پر صدر آصف علی زرداری اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی مبارکباد دی۔
غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 24 میں سے 19 حلقوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نو نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں کو بھی مبارکباد دی اور انتخابی مہم کے دوران پارٹی کارکنوں اور قیادت کی محنت، لگن اور بھرپور مقابلے کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پرامن، شفاف اور متحرک انتخابات جمہوریت کی اصل خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے شفاف اور غیر جانبدار انتخابی عمل یقینی بنانے میں قابلِ ستائش کردار ادا کیا۔
انہوں نے انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے جی بی اے-1، جی بی اے-4، جی بی اے-5، جی بی اے-7، جی بی اے-9، جی بی اے-10، جی بی اے-11، جی بی اے-12 اور جی بی اے-19 میں کامیابی حاصل کی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جی بی اے-18، جی بی اے-20 اور جی بی اے-22 میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے تین نشستیں جیتیں جبکہ مجلس وحدت المسلمین نے جی بی اے-8 میں ایک نشست اپنے نام کی۔
آزاد امیدواروں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور جی بی اے-3، جی بی اے-6، جی بی اے-16، جی بی اے-21، جی بی اے-23 اور جی بی اے-24 سمیت چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
اگرچہ بعض حلقوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں، تاہم موجودہ انتخابی منظرنامہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقوں میں نتائج تبدیل کرنے اور عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جی بی اے-16 اور جی بی اے-17 سمیت بعض حلقوں کے نتائج روکے گئے ہیں حالانکہ وہاں پیپلز پارٹی اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش جاری رہی تو پارٹی احتجاج کرے گی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی فارم 45 کے اجرا میں تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کے دیے گئے فیصلے کو درست انداز میں نتائج میں ظاہر کیا جائے۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ فارم 45 حاصل کیے بغیر پولنگ اسٹیشن نہ چھوڑیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کو انتخابی جلسے کرنے کی مکمل اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنماؤں کو انتخابی مہم میں بھرپور شرکت سے روکا گیا، حالانکہ آئین تمام سیاسی جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے کا حق دیتا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جس جماعت کو عوام ووٹ دیں، حکومت بنانے کا حق بھی اسی جماعت کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما عبد الغفور حیدری نے بھی نتائج کے اعلان میں تاخیر اور فارم 45 سے متعلق شکایات پر تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان معاملات نے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ داریل میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین نے جی بی اے-1 میں کامیابی حاصل کی جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس نے جی بی اے-3 گلگت سے کامیابی حاصل کی۔
الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں مجموعی طور پر ایک ہزار 391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے۔ ان میں 488 کو نارمل، 349 کو حساس اور 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ 23 امیدوار میدان میں اتارے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 22 اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ 19 آزاد امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔
استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان نظریاتی پارٹی نے 11، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلامی تحریک پاکستان نے 9، 9 امیدوار میدان میں اتارے۔
مجلس وحدت المسلمین نے 7، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے 6، 6 جبکہ عوامی ورکرز پارٹی نے 4 امیدوار نامزد کیے۔
انتخابات کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، پنجاب پولیس اور سندھ پولیس کے دستے مختلف پولنگ اسٹیشنوں اور اہم مقامات پر تعینات رہے۔
حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ضلعی انتظامیہ پورے انتخابی عمل کے دوران ہائی الرٹ رہے۔
گلگت بلتستان کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر اکبر خان نے بتایا کہ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 17 ہزار 500 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور دیگر سکیورٹی ادارے مکمل طور پر الرٹ رہے جبکہ حساس پولنگ اسٹیشنوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔


