اسلام آباد (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات آئندہ دو دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، اور اس کے لیے پاکستان کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
دی نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کو ممکنہ مقام قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود ان مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے، جو 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کی اہم مثال ہیں۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، تاہم تعطل پیدا نہیں ہوا اور دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ آئندہ مرحلے کی تاریخ طے کی جا سکے، جس کا امکان رواں ہفتے کے اختتام پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تہران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ پاکستان ثالثی کردار میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
اس وقت سب سے اہم ترجیح 22 اپریل کو ختم ہونے والی جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں اور مذاکرات کو ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ سمجھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے مکمل کوششیں جاری ہیں اور علاقائی قیادت کے ساتھ رابطے بڑھائے جا رہے ہیں۔
اگرچہ دونوں فریقین مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہیں، تاہم ایجنڈا، طریقہ کار اور مقام کے حوالے سے اختلافات برقرار ہیں۔ ایران اسلام آباد کو ترجیح دے رہا ہے جبکہ امریکہ دیگر متبادل مقامات پر غور کر رہا ہے۔


