اسلام آباد (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی شرائط پر اتفاق نہیں کر سکے۔
اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی انتہائی نازک حالت میں ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جنگ بندی ایسی حالت میں ہے جیسے ڈاکٹر آ کر کہے کہ آپ کے عزیز کے زندہ بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ گئے ہیں۔”
امریکی صدر نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی امن تجویز کو ایک بار پھر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے احمقانہ تجویز قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی طاقت بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق تقریب کے دوران امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے نشر ہونے والے اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا، “یہ ایک احمقانہ تجویز ہے اور کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا، اگرچہ باراک اوباما اور جو بائیڈن اسے قبول کر لیتے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی قوت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ تہران مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کے چار نکاتی منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی سفیر نے کہا کہ چین کے منصوبے کی حمایت کا مقصد خلیجی خطے میں دیرپا سلامتی اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینا ہے۔
یہ منصوبہ اس سے قبل بیجنگ میں چینی صدر اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آیا تھا۔
ادھر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سعودی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری رابطوں کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز سمیت بحری سلامتی کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی میدان جنگ میں حاصل کی گئی کامیابی کو سفارت کاری کے میدان میں بھی مکمل کیا جانا چاہیے اور ایرانی قوم کے حقوق عزت اور خودمختاری کے ساتھ حاصل کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا، “ہم دشمن پر اعتماد نہیں کرتے، تاہم وقار، دانشمندی اور قومی مفاد کے تحت مذاکرات ممکن سمجھتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس تین راستے ہیں: باوقار مذاکرات، نہ جنگ نہ امن کی کیفیت، یا پھر محاذ آرائی کا تسلسل۔
انہوں نے زور دیا کہ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ عسکری کامیابیوں کو سفارتی کامیابی میں بھی تبدیل کیا جائے


