گلگت بلتستان کی تین نشستوں کے انتخابی نتائج معطل، تنازعات کے باعث حکومت سازی مزید تاخیر کا شکار

0
6


گلگت (ایم این این): گلگت بلتستان میں انتخابی تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں نے حکومت سازی کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان نے جمعہ کو تین حلقوں کے انتخابی نتائج معطل کر دیے، جبکہ ایک اور حلقے جی بی اے-16 کا حتمی نتیجہ چیف الیکشن کمشنر کے احکامات کے باوجود جاری نہ ہو سکا۔

سات جون کے انتخابات کے بعد سے جاری تنازعات کے باعث صوبائی حکومت کی تشکیل میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا محمد نشاد (جی بی اے-9 سکردو)، محمد نسیم (جی بی اے-17 دیامر-3) اور آزاد امیدوار دلپذیر خان (جی بی اے-15 دیامر-1) سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ دلپذیر خان بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔

فدا محمد نشاد کو کاغذات نامزدگی میں اثاثے ظاہر نہ کرنے پر ریٹرننگ افسر نے نااہل قرار دیا تھا۔ الیکشن ٹریبونل نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا، تاہم بعد میں گلگت بلتستان چیف کورٹ نے انہیں انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد انہیں کامیاب قرار دیا گیا اور فارم 48 اور 49 جاری کر دیے گئے، لیکن سپریم اپیلیٹ کورٹ نے جمعہ کو ان کی نااہلی برقرار رکھتے ہوئے حلقے کا انتخابی نتیجہ معطل کر دیا۔

اسی طرح عدالت نے جی بی اے-17 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد نسیم کے انتخابی نتائج بھی معطل کر دیے۔ اگرچہ چیف الیکشن کمشنر نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور انتخابی فارم بھی جاری ہو چکے تھے، تاہم مخالف امیدوار نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔

ایک اور مقدمے میں جی بی اے-15 سے آزاد امیدوار دلپذیر خان کے نتائج بھی معطل کر دیے گئے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ دوبارہ پولنگ کے بغیر انہیں کامیاب قرار دینا درست نہیں تھا۔

عدالت نے تینوں حلقوں کے نتائج آئندہ عدالتی فیصلوں تک معطل رکھنے کی ہدایت جاری کی۔

دوسری جانب جی بی اے-16 دیامر-2 کا حتمی نتیجہ چیف الیکشن کمشنر کے احکامات کے باوجود مرتب نہ ہو سکا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریٹرننگ افسر کو ہدایت دی تھی کہ ایک روز کے اندر پوسٹل بیلٹس کی گنتی مکمل کرکے فارم 48 اور 49 تیار کیے جائیں۔

تاہم آزاد امیدواروں کے حامیوں نے ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پوسٹل بیلٹس کی گنتی روکنے کی کوشش کی۔ تنازع پوسٹل ووٹوں اور بعض پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے مطالبے کے گرد گھوم رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عطااللہ خان کا مؤقف ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اور پوسٹل ووٹوں کی گنتی ان کے حق میں ہے، جبکہ آزاد امیدوار امام ملک کے حامی مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے کہا کہ درخواست پر فیصلہ ہو چکا ہے اور نتائج کو یکجا کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق پوسٹل بیلٹس کی گنتی اور فارم 48 اور 49 کی تیاری ریٹرننگ افسر کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولنگ کے پندرہ روز کے اندر کامیاب امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کرنا قانونی تقاضا ہے، تاہم حتمی نوٹیفکیشن فارم 49 کے اجرا کے بعد ہی جاری ہو سکتا ہے۔

ایک اور اہم پیش رفت میں ہنزہ سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد منتخب رکن نیک نام کریم پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، جس کی باقاعدہ تصدیق الیکشن کمیشن نے کر دی۔

24 رکنی گلگت بلتستان اسمبلی میں 12 نشستوں کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور خواتین و ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں