نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب، کم از کم 362 افراد ہلاک, غیر ملکی سیاحوں سمیت سینکڑوں افراد لاپتہ

0
1

کھٹمنڈو (ایم این این)؛ نیپال اور تبت کی سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں نے کم از کم 362 افراد کی جان لے لی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں سمیت سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

نیپال پولیس کے مطابق جمعرات کی شام تک ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 359 ہو چکی تھی، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے سرحد پار تبت میں کم از کم تین ہلاکتوں کی اطلاع دی، جس کے بعد مجموعی تعداد کم از کم 362 ہو گئی۔

یہ تباہی بدھ کے روز اس وقت شروع ہوئی جب پانی، مٹی اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلا دریاؤں بھوٹے کوشی اور تریشولی کے اطراف واقع آبادیوں، قصبوں اور دیہاتوں سے گزرتا ہوا تباہی پھیلاتا چلا گیا۔

چینی سرحدی علاقے سے سامنے آنے والی نگرانی کی ویڈیو میں مٹی اور ملبے کی ایک خوفناک دیوار کو کئی منزلہ عمارتوں سے ٹکراتے اور انہیں اپنی لپیٹ میں لیتے دیکھا گیا، جبکہ بسیں اور گاڑیاں چند لمحوں میں بہہ گئیں۔

حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بھی شامل ہے۔ نیپالی حکام نے بتایا کہ متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاح اور مقامی شہری امدادی اداروں سے رابطے میں نہیں ہیں۔

لاپتہ افراد میں بھارت، امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک کے سیاح شامل ہیں۔ تاہم بعد میں امدادی ٹیموں نے تقریباً 100 بھارتی سیاحوں اور 25 چینی کارکنوں کو تلاش کر لیا۔

چینی حکام کے مطابق تبت کے علاقے میں بھی غیر ملکیوں سمیت سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔

نیپال کے وزیراعظم بالندر شاہ نے متاثرہ ضلع نوواکوت کا دورہ کیا تاکہ تباہی کا جائزہ لیا جا سکے اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا سکے۔

عینی شاہدین اور متاثرین نے تباہی کے دل دہلا دینے والے مناظر بیان کیے۔ کئی علاقوں میں مکانات، بستیاں، گاڑیاں اور مارکیٹیں پانی اور مٹی کے ریلے میں بہہ گئیں۔

ماحولیاتی ماہرین نے اس تباہی کو ”اندرونِ ملک سونامی“ قرار دیا اور بتایا کہ مٹی اور ملبے کا ریلا بھوٹے کوشی وادی سے گزرتے ہوئے تقریباً 170 کلومیٹر تک پہنچا۔

سب سے پہلے شمالی نیپال کے ضلع راسووا میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، تاہم بعد میں سات مختلف اضلاع میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں، کیونکہ سیلابی ریلے جنوب کی جانب چتوان تک پھیل گئے۔

نیپالی فوج نے بڑے پیمانے پر امدادی اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا، جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ دریاؤں کے قریب اور خطرناک علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر نقل مکانی کی ہدایات دی گئیں۔

سرحد پار تبت میں بھی چینی حکام نے سینکڑوں امدادی کارکن، گاڑیاں، تربیت یافتہ کتے اور کشتیاں ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کر دیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ فیڈریشن، اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے متاثرہ علاقوں کے لیے کمبل، ابتدائی طبی امداد کا سامان، اسٹریچر اور دیگر ضروری امدادی اشیا روانہ کرنا شروع کر دی ہیں۔

امریکا نے پانچ لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد اور ایک ڈیزاسٹر رسپانس ایڈوائزر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

ابتدائی طور پر تباہی کی وجہ واضح نہیں تھی، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے بعد ازاں کہا کہ یہ سانحہ زلزلے کے بجائے گلیشیئر کے انہدام اور بڑے پیمانے پر ملبے کے بہاؤ کے باعث پیش آیا۔

واقعے کو ابتدا میں 4.4 شدت کے زلزلے کے طور پر رپورٹ کیا گیا تھا، لیکن مزید سیسمک اور سیٹلائٹ تجزیے سے معلوم ہوا کہ کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا۔ گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کے گرنے سے پیدا ہونے والی شدید حرکت نے تباہ کن مٹی اور ملبے کے ریلے کو جنم دیا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیپال اور چین کی سرحد کے قریب دریا میں موجود رکاوٹ کے باعث دوسرے سیلاب کا بھی خطرہ موجود ہے، جس کے پیش نظر حکام نے متاثرہ علاقوں میں الرٹ برقرار رکھا ہے۔

اس سانحے سے اہم سیاحتی اور مذہبی راستے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، جن میں مقبول ٹریکنگ مقامات اور کوہِ کیلاش کی جانب جانے والے راستے شامل ہیں، جو بدھ مت اور ہندو مت کے پیروکاروں کے لیے مقدس مقام ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش اور ان کی جان بچانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ٹیمیں متاثرہ نیپالی آبادیوں کی مدد کے لیے امدادی سامان اور عملہ روانہ کر رہی ہیں۔

روحانی پیشوا دلائی لامہ نے بھی سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور تمام متاثرین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں