اسلام آباد (MNN)؛ نجکاری کمیشن نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کی نجکاری کیلئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 ممکنہ سرمایہ کاروں نے 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص اور انتظامی کنٹرول کے حصول کیلئے اظہارِ دلچسپی (EOIs) جمع کرایا ہے۔
آئی ای ایس سی او بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پہلے مرحلے (Batch-I DISCOs) میں شامل تین کمپنیوں میں سے ایک ہے، جبکہ دیگر دو کمپنیوں میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) شامل ہیں۔ حکومت کے منظور شدہ نجکاری ڈھانچے کے تحت تینوں کمپنیوں میں 51 سے 100 فیصد تک حصص کے ساتھ انتظامی کنٹرول نجی شعبے کو منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق آئی ای ایس سی او کیلئے اظہارِ دلچسپی جمع کرانے والے 10 سرمایہ کاروں میں تین ترک اور سات پاکستانی سرمایہ کار شامل ہیں۔
ترک سرمایہ کاروں میں آکٹور الیکٹرک انرجی، جین ویرا انرجی اور چنگیز انرجی شامل ہیں۔ ان تینوں کمپنیوں نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں میں انگرو انرجی، جبکہ آرٹسٹک ملنرز، دی لیک سٹی ہولڈنگز، فاطمہ کیپیٹل لمیٹڈ، ڈِن وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور فضل کلاتھ ملز لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم شامل ہے۔
اسی طرح حبکو پاور ہولڈنگ کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے بھی اظہارِ دلچسپی جمع کرایا ہے جس میں لکی سیمنٹ، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔
دیگر پاکستانی سرمایہ کاروں میں سیفائر فائبرز لمیٹڈ، نوواتیکس لمیٹڈ اور بیسٹ وے سیمنٹ لمیٹڈ شامل ہیں، جبکہ حسنات برادرز کنسٹرکشن کمپنی، ذلال ہولڈنگ گروپ، پاک اسٹیل، بائیو لیبز اور فرید اسٹیل کاسٹنگ پر مشتمل ایک نئے کنسورشیم نے بھی آئی ای ایس سی او کیلئے اظہارِ دلچسپی جمع کرایا ہے۔
نجکاری کمیشن نے کہا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی یہ دلچسپی مقامی اور بین الاقوامی روڈ شوز کے بعد سامنے آئی ہے اور اس سے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حکومتی پروگرام کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے سرمایہ کاروں کے ردعمل کو ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ای ایس سی او کیلئے موصول ہونے والی دلچسپی پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد اور حکومت کے شفاف و مسابقتی عمل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
کمیشن اب موصول ہونے والے Expressions of Interest (EOIs) اور Statements of Qualification (SOQs) کا منظور شدہ پری کوالیفکیشن معیار کے تحت جامع جائزہ لے گا۔ مطلوبہ شرائط پوری کرنے والے درخواست گزاروں کو پری کوالیفائی کرکے نجکاری کے اگلے مرحلے میں شامل کیا جائے گا، جہاں انہیں ورچوئل ڈیٹا روم (VDR) تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ تفصیلی مالی و تجارتی جانچ پڑتال کر سکیں۔
نجکاری کمیشن کے مطابق نجکاری کے عمل کا مقصد آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا، بجلی کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، صارفین کی خدمات کو مضبوط کرنا اور بجلی کے نقصانات میں کمی لانا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ڈسکوز میں اصلاحات کے وسیع تر پروگرام کا مقصد بجلی کی تقسیم کے شعبے کو زیادہ مالی طور پر پائیدار بنانا اور صارفین کیلئے قابلِ اعتماد اور نسبتاً سستی بجلی کی فراہمی کیلئے بہتر حالات پیدا کرنا ہے۔
آئی ای ایس سی او کیلئے اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 21 ستمبر 2026 تک بڑھائی گئی تھی تاکہ مزید ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو عمل میں شامل ہونے کا موقع مل سکے۔ نجکاری کمیشن کے مطابق توسیع کا مقصد ممکنہ سرمایہ کاروں کو اپنی جانچ پڑتال مکمل کرنے کیلئے اضافی وقت فراہم کرنا اور عمل میں مسابقتی شرکت کو یقینی بنانا تھا۔
اس سے قبل فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کیلئے 12 اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کیلئے 11 اظہارِ دلچسپی موصول ہو چکے ہیں۔ ایف ای ایس سی او کیلئے 10 سرمایہ کاروں کو پہلے ہی پری کوالیفائی کیا جا چکا ہے جبکہ جی ای پی سی او کیلئے موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ جاری ہے۔
نجکاری کمیشن نے کہا ہے کہ آئی ای ایس سی او کی نجکاری کا عمل منظور شدہ طریقہ کار اور متعلقہ قوانین کے تحت کھلے، شفاف اور مسابقتی انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔


