نیویارک (MNN): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ اسی خطاب میں ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو “زبردست انسان” قرار دیتے ہوئے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی ختم کرانے میں اپنے کردار کا ایک بار پھر ذکر کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو جوہری پروگرام ختم کرنے اور مسلح گروہوں کی حمایت ترک کرنے کے بدلے اقتصادی تعاون کی پیشکش کی تھی، تاہم ان کے مطابق تہران نے معاہدے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کوششیں ان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کی گئی تھیں، جبکہ اس دوران ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کا ذخیرہ بھی بڑھایا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان کے سامنے ایران کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ ہے: یا تو ایسا معاہدہ کیا جائے جس کے ذریعے ایران دوبارہ تعمیر نو کر سکے، یا پھر اسلامی جمہوریہ کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے “annihilate” یعنی مکمل تباہی کا لفظ بھی استعمال کیا۔
ٹرمپ نے دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی مہم میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو تجارتی جہاز رانی پر حملے روکنے، جوہری عزائم ترک کرنے اور مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات، جو نومبر میں ہونے ہیں، کے بعد ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال ایسا کوئی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ایرانی نمائندوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس وقت کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی تھی۔
ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو ‘زبردست انسان’ قرار دے دیا
ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ان تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے جنہیں وہ اپنے کردار کے باعث ختم ہونے والا قرار دیتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کو “زبردست انسان” قرار دیا۔
امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ متعدد ممالک کے رہنماؤں نے ان کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر میں ایک مہلک حملے کے بعد بڑھ گئی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جوابی فوجی کارروائیاں ہوئیں۔ مئی میں فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوئی، جس کے لیے امریکا سمیت مختلف سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں۔ ٹرمپ اس کے بعد متعدد مواقع پر جنگ بندی کے حصول میں اپنے کردار کا ذکر کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں “30 ملین جانیں اور شاید اس سے بھی زیادہ زندگیاں بچانے” کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ امریکی صدر نے اس بیان کو اپنے سفارتی کردار کی مثال کے طور پر پیش کیا۔
اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا عمومی مباحثہ 22 سے 26 ستمبر تک جاری ہے، جبکہ 28 ستمبر کو بھی ایک اضافی اجلاس مقرر ہے۔


