پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ پر ڈیڈلاک برقرار، ایم ون موٹروے 23 ستمبر کی رات سے بند کرنے کا اعلان

0
2

اسلام آباد (MNN): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان پر حکومت اور پارٹی کے درمیان رابطوں کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، جبکہ سکیورٹی انتظامات کے تحت اسلام آباد، پشاور موٹروے ایم ون بدھ 23 ستمبر کی رات 11 بجے سے تمام ٹریفک کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے منگل کو جاری ایڈوائزری میں اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر علاقوں سے سفر کرنے والے شہریوں کو ایم ون استعمال نہ کرنے اور غیر ضروری سفر مؤخر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اسلام آباد، لاہور ایم ٹو موٹروے ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی اور شہری سفر کا منصوبہ بناتے وقت ایم ون کی بندش کو مدنظر رکھیں۔

ایم ون کی بندش کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے حکومت کی وارننگز اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی اقدامات کے باوجود 27 ستمبر کے احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔ پارٹی کے مطابق مارچ کا بنیادی مقصد بانی عمران خان کی رہائی اور دیگر سیاسی و آئینی مطالبات کو اجاگر کرنا ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے، اعتماد کا فقدان رکاوٹ بن گیا

حالیہ رابطوں سے واقف ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت اور حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان گہرے عدم اعتماد کو اہم رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بات چیت میں اس امکان پر غور کیا گیا کہ اگر پی ٹی آئی 27 ستمبر کی متحرک احتجاجی مہم واپس لے لے اور مستقبل میں طویل دھرنوں، سڑکوں کی بندش یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کی یقین دہانی کرائے تو کشیدگی کم کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ ایسی مفاہمت کی صورت میں پی ٹی آئی بانی عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق بعض معاملات میں سہولت یا نرمی پر غور ممکن ہوسکتا ہے۔

ان معاملات میں بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کرنے، عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے اور ان سے ملاقاتوں میں مزید سہولت فراہم کرنے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ سہولتوں کو اس شرط سے منسلک کیا گیا تھا کہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو حاصل سہولتوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان سے قواعد کے مطابق ملاقاتوں میں سہولت دی جاسکتی ہے، تاہم جیل کے اندر سے سیاسی سرگرمی یا سیاسی کارکنوں کو متحرک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تاہم ان رابطوں کے باوجود کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا اور پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے پروگرام سے متعلق اپنا عوامی مؤقف تبدیل نہیں کیا۔

27 ستمبر کی اصل موبلائزیشن خیبر پختونخوا سے متوقع

حالیہ پیش رفت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ 27 ستمبر کی عملی موبلائزیشن کا بڑا مرکز خیبر پختونخوا ہوسکتا ہے، اگرچہ پی ٹی آئی عوامی طور پر احتجاج کو ملک گیر مارچ قرار دے رہی ہے۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا سے ایک مرکزی قافلے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے قافلوں کے اسلام آباد پہنچنے اور مرکزی مارچ میں شامل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کارکنوں کو عمومی طور پر اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں، جہاں انتظامی پابندیاں اور دباؤ نسبتاً زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا سے ملحقہ پنجاب کے اضلاع میں موجود پی ٹی آئی کارکنوں کو کے پی مہم کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کی اجازت دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد تنظیم کو وفاقی دارالحکومت کے اندر سے الگ طور پر کوئی بڑا جلوس نکالنے کی مخصوص ہدایت نہیں دی گئی۔ مارچ کا مرکزی دباؤ خیبر پختونخوا سے آنے کی توقع ہے، جبکہ اسلام آباد کی جانب قافلے کی حتمی پیش قدمی زمینی صورتحال کے مطابق طے کی جائے گی۔

تاہم پی ٹی آئی نے اس تفصیلی داخلی حکمت عملی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ پارٹی قیادت عوامی طور پر 27 ستمبر کا پروگرام برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا مارچ برقرار رکھنے پر اصرار

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی مسلسل کہہ رہے ہیں کہ 27 ستمبر کی تاریخ برقرار ہے۔ پیر کو پشاور میں پی ٹی آئی قیادت اور عہدیداروں کا اجلاس بھی ہوا جس میں اسلام آباد مارچ کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مارچ آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا اور پارٹی قانون و امن و امان کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی۔

اسلام آباد اور داخلی راستوں پر سکیورٹی سخت

حکام نے وفاقی دارالحکومت اور اہم داخلی راستوں پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اسلام آباد اور اٹک پل سمیت مختلف مقامات پر تقریباً 2 ہزار کنٹینرز پہنچائے جا چکے ہیں۔ اٹک پل خیبر پختونخوا اور ملک کے شمالی علاقوں سے آنے والی ٹریفک کے لیے اہم داخلی راستہ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی مجوزہ احتجاج سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمیاں آئین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتی ہیں اور عوامی آمدورفت اور ضروری خدمات تک رسائی میں خلل سے گریز کیا جانا چاہیے۔

حکومت نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون نافذ کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو پی ٹی آئی کو مارچ پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی آگے بڑھی تو حکومت مکمل ردعمل دے گی۔

محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے بعض قانونی آپشنز پر غور کیے جانے کا بھی عندیہ دیا ہے، جبکہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہوکر عوامی آمدورفت متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری افسران کو ہدایت کی ہے کہ پی ٹی آئی مارچ کے لیے سرکاری فنڈز، سرکاری گاڑیوں، مشینری یا دیگر ریاستی وسائل استعمال نہ کیے جائیں۔ یہ ہدایات اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق احکامات کے تناظر میں جاری کی گئی ہیں۔

ادھر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد مارچ وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر وزیراعظم سے ملاقات تک مؤخر کردیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کا مارچ برقرار رکھنے اور حکومت کی جانب سے وسیع سکیورٹی اقدامات کے باعث ایم ون موٹروے کی 23 ستمبر کی رات سے بندش اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور موٹروے سے منسلک دیگر علاقوں کے درمیان سفر کو نمایاں طور پر متاثر کرسکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں