تہران (ایم این این): ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کو افزودہ یورینیم حوالے کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تفصیلات پر زور دیا گیا تو کسی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ قطر کا ایک وفد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے مذاکرات کر رہا ہے جبکہ پاکستان بدستور مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کسی معاہدے کے قریب نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے اور نمایاں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ ہے جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی امور زیرِ بحث نہیں۔
ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان سے ملاقات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو ایرانی افواج پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دیں گی۔
دوسری جانب یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف نئی پابندیوں کے فریم ورک کا اعلان کیا ہے۔
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے اور عالمی برادری کو اس اہم بحری راستے کو کھلا رکھنے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق قطر کا تیسرا مائع قدرتی گیس بردار جہاز بھی آبنائے ہرمز عبور کرکے چین روانہ ہو چکا ہے۔
جہاز “السلحہ” راس لفان سے روانہ ہوا اور توقع ہے کہ 14 جون کو چین کے تیان جن ایل این جی ٹرمینل پہنچے گا۔
ادھر فرانس نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی مشن سے متعلق قرارداد تیار کر لی ہے۔
امریکا اور بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد، جس میں ایران سے حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا گیا، کو روس اور چین کی مخالفت کا سامنا ہے، جنہوں نے پہلے بھی اسی نوعیت کی قرارداد کو ویٹو کیا تھا۔


