کوئٹہ (ایم این این): کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے نو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ چار اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوگئے۔
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق کارروائی پنجپائی اور نوحصار کے علاقوں میں کی گئی جہاں دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ترجمان نے بتایا کہ آپریشن کے دوران نو دہشت گرد مارے گئے جبکہ چار اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا اور چھ دیگر زخمی ہوگئے۔
یہ کارروائی اس آپریشن کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے جو خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کیا تھا۔
سنٹرل پولیس آفس کے مطابق تھانہ میریان کی حدود میں ہونے والے اس آپریشن میں پندرہ دہشت گرد ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوئے جبکہ ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔
سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دس کلو وزنی دیسی ساختہ بم بھی برآمد کیا جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔
ایک اور پولیس اہلکار زخمی ہوا جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پاکستان میں 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سرحد پار دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں۔
اسلام آباد بارہا کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان نے فروری 2026 میں آپریشن غضبُ الحق شروع کیا تھا، جو اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے چند ماہ بعد کیا گیا۔
یہ جنگ بندی سرحدی مقامات پر افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں عمل میں آئی تھی۔
متعدد مذاکراتی دور ہونے کے باوجود دونوں ممالک اب تک کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ پاکستان کے مطابق افغان طالبان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔


