کوئٹہ میں شٹل ٹرین دھماکا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

0
24

کوئٹہ: کوئٹہ میں اتوار کی صبح ایک شٹل ٹرین میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق شٹل ٹرین کوئٹہ کینٹ سے ریلوے اسٹیشن جا رہی تھی کہ صبح آٹھ بجے کے کچھ دیر بعد چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کا نشانہ بنی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے تصدیق کی کہ جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی ہے، جن میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔

دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ پولیس، محکمہ انسدادِ دہشت گردی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔

پاکستان ریلوے نے امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو گاڑیاں اور ریلیف ٹرین روانہ کی۔ دھماکے کے باعث انجن سمیت تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو بوگیاں الٹ گئیں۔ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جسے بعد میں قابو میں لے لیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اتنا شدید تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں اس کی آواز سنی گئی۔ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں تباہ شدہ بوگیاں، جلی ہوئی گاڑیاں، دھوئیں کے بادل اور امدادی کارکنوں کو زخمیوں کو منتقل کرتے دیکھا گیا۔

کوئٹہ کے اسپتالوں میں فوری طور پر طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور تمام ڈاکٹروں اور طبی عملے کو طلب کر لیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صورتحال کی نگرانی کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی بعد ازاں کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں حملے کی شدید مذمت کی گئی اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا گیا۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ دہشت گردی قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ پاکستان ریلوے کی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

پاکستان میں چین اور روس کے سفارت خانوں نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

ادھر انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں شہری، مزدور، مسافر اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بڑھتے ہوئے حملوں اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں