واشنگٹن (ایم این این): معروف ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت اور ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کا تاریخی آئی پی او ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے تاریخ کا سب سے بڑا ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) مکمل کرتے ہوئے تقریباً 75 ارب ڈالر حاصل کیے، جبکہ کمپنی کی مجموعی مالیت اسٹاک مارکیٹ میں فہرست ہونے کے بعد 2 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ پہلے ہی روز کمپنی کے حصص میں تقریباً 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ایلون مسک کی مجموعی دولت ایک کھرب ڈالر سے بڑھ گئی۔
آئی پی او سے قبل بھی ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص تھے اور ان کی دولت کا بڑا حصہ اسپیس ایکس اور ٹیسلا میں حصص کی صورت میں موجود تھا۔ تاہم اسپیس ایکس کی کامیاب فہرست بندی کے بعد ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً 1.1 کھرب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔
کمپنی کے حصص ابتدائی طور پر 135 ڈالر فی شیئر کی قیمت پر فروخت کیے گئے، جبکہ ٹریڈنگ کے آغاز پر قیمت 150 ڈالر تک پہنچ گئی اور بعد ازاں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس دوران کمپنی کی مارکیٹ ویلیو ایک موقع پر 2.3 کھرب ڈالر تک جا پہنچی۔
2002 میں قائم ہونے والی اسپیس ایکس نے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹس، اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اور چاند و مریخ تک انسانی مشنز کے منصوبوں کے ذریعے خلائی صنعت میں انقلاب برپا کیا۔ سرمایہ کار مستقبل کی خلائی معیشت، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبوں میں کمپنی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔
آئی پی او کے بعد ایلون مسک نے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے اور اسپیس ایکس کا مقصد عام انسانوں کو بھی خلائی سفر کے قابل بنانا اور مستقبل میں مریخ پر انسانی آبادیاں قائم کرنا ہے۔
اس تاریخی آئی پی او سے صرف ایلون مسک ہی نہیں بلکہ کمپنی کے ہزاروں ملازمین بھی مستفید ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 4,400 موجودہ اور سابق ملازمین ایک ہی دن میں کروڑ پتی بن گئے، جبکہ سینکڑوں افراد کے حصص کی مالیت 100 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ ان میں انجینئرز، ٹیکنیشنز، ویلڈرز اور دیگر ملازمین شامل ہیں جنہیں کمپنی کی جانب سے حصص دیے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس کا آئی پی او عالمی مالیاتی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ ہے جس نے سعودی آرامکو اور علی بابا جیسے ریکارڈ توڑ آئی پی اوز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
دوسری جانب اس پیش رفت نے دولت کے ارتکاز اور معاشی عدم مساوات پر نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے، جہاں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی بے مثال دولت دنیا میں بڑھتے ہوئے معاشی فرق کی عکاسی کرتی ہے۔
بہرحال، اسپیس ایکس کا آئی پی او عالمی کاروباری تاریخ میں ایک تاریخی سنگ میل بن گیا ہے اور اس نے ایلون مسک کو دنیا کا پہلا باضابطہ کھرب پتی بنا دیا ہے۔


