گلگت بلتستان اسمبلی کے چار آزاد ارکان استحکامِ پاکستان پارٹی میں شامل، حکومت سازی میں اہم کردار متوقع

0
2

گلگت (ایم این این): گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے چار آزاد ارکان نے استحکامِ پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ پیش رفت پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے بعد سامنے آئی۔

استحکامِ پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان میں حلقہ جی بی اے-23 گانچھے-II سے منتخب انور علی، حلقہ جی بی اے-24 گانچھے-III سے منتخب ڈاکٹر اسد شفیق، حلقہ جی بی اے-15 دیامر-I سے منتخب محمد دلپذیر اور حلقہ جی بی اے-21 غذر سے منتخب امان علی امیر شامل ہیں۔

وفاقی وزیر اور استحکامِ پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے نومنتخب ارکان کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں پہلی مرتبہ پارٹی کی نمائندگی ایک خوش آئند پیش رفت ہے اور استحکامِ پاکستان پارٹی دیانت داری اور محنت کے ساتھ خطے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔

7 جون کو ہونے والے گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں استحکامِ پاکستان پارٹی نے 16 حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے تھے، تاہم کوئی امیدوار کامیاب نہ ہو سکا۔ چار آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد پارٹی کو پہلی بار گلگت بلتستان اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہو گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ چار آزاد ارکان گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب خطے میں حکومت سازی کے لیے سیاسی رابطے جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے گلگت بلتستان میں حکومت سازی سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی، تاہم اس کے منتخب ارکان حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیں گے۔

اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اکثریت کو تسلیم کرنا جمہوری روایت کا تسلسل ہے۔ انہوں نے حکومت بنانے کی دعوت کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔ چار آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ دو امیدوار اور مجلس وحدت المسلمین کا ایک امیدوار بھی کامیاب ہوا ہے۔

تین مزید حلقوں کے نتائج 17 جون کو متوقع ہیں۔ گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 13 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) دوسری بڑی جماعت ہے، تاہم اس نے مرکز میں اپنی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں