خیبر پختونخوا کا 2.17 کھرب روپے کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ

0
6

پشاور (ایم این این): خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعہ کے روز مالی سال 2026-27 کے لیے 2.17 کھرب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا، جس میں 48 ارب روپے کے مالی خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل بجٹ کی پیشی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی تھی کیونکہ اطلاعات تھیں کہ صوبائی حکومت مالی فیصلوں سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی خواہاں تھی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرچہ بجٹ میں 48 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم صوبائی حکومت کسی سے قرض نہیں لے گی بلکہ یہ رقم اپنے وسائل سے فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 15.2 کھرب روپے کے ٹیکس ہدف کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اس میں وفاق کو کسی قسم کی گرانٹ نہیں دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبائی نمائندوں نے واضح کیا تھا کہ وفاق کو گرانٹ دینے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اس معاملے میں حتمی اتھارٹی ہیں۔

اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات، ان کے بنیادی حقوق کی بحالی، اہل خانہ سے رابطے، ذاتی معالجین تک رسائی، بیٹوں سے ٹیلیفون پر گفتگو اور ٹیلی ویژن، کتابوں اور اخبارات کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک پارٹی قیادت کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، کوئی مسودہ منظور نہیں کیا جائے گا۔

بجٹ کے خدوخال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اب ترقیاتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خوشحالی اور پائیدار ترقی کے مرحلے میں داخل ہونا چاہتی ہے۔ ’’خوشحال پاکستان‘‘ وژن کا مقصد معاشی ثمرات عام شہریوں تک پہنچانا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں صوبے کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 1.59 کھرب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں کا ہدف 182.4 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مجموعی آمدن کا تخمینہ 2.12 کھرب روپے جبکہ اخراجات کا حجم 2.17 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔

بجٹ میں جاری اخراجات کے لیے 1.64 کھرب روپے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاقی گرانٹس کا تخمینہ 199 ارب روپے جبکہ بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 150 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت وفاقی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی گرانٹس کا حجم 5.1 ارب روپے متوقع ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 0.75 فیصد کر دی گئی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں