سوئٹزرلینڈ میں ایران-امریکا امن مذاکرات کا آغاز، ٹرمپ کی نئی دھمکیاں، شہباز شریف کا کشیدگی میں کمی پر زور

0
1

بیورگن اسٹاک/اسلام آباد/تہران (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان عبوری امن معاہدے کے تحت پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی۔ مذاکرات پر اس وقت مزید سایہ پڑ گیا جب تہران نے لبنان میں جاری کشیدگی کو جواز بناتے ہوئے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا۔

قطری ثالثی میں بیورگن اسٹاک کے پہاڑی مقام پر ہونے والے مذاکرات ایک ہفتہ قبل طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد پہلی ملاقات تھے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھولنا اور خطے میں جاری تنازعات، خصوصاً لبنان میں لڑائی، کا خاتمہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی نہ رکی تو امریکا ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن ردعمل کے لیے تیار ہیں۔

لیک لوسرن سمٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت کے طرزِ عمل کو ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ ایران نے بحران کو کم کرنے کے لیے وقار اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو بھی امن کے خواہاں رہنما قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے میں ان کے کردار کو سراہا۔

وزیراعظم نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ معاشی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں امریکی حمایت دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

شہباز شریف نے سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کاسس سے بھی ملاقات کی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد سوئٹزرلینڈ کے مثبت کردار پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد علاقائی امن، استحکام اور عالمی معاشی خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی شروعات چاہتے ہیں اور لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ موجودہ مذاکرات صرف مفاہمتی یادداشت کے نفاذ تک محدود رہیں گے اور جوہری پروگرام جیسے بنیادی معاملات زیر بحث نہیں آئیں گے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور وعدہ کردہ معاشی فوائد، بشمول پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں تک رسائی، کے بغیر جوہری مذاکرات کے اگلے مرحلے کا آغاز ممکن نہیں۔

آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش کے اعلان نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ بحری جہازوں کی آمدورفت کے اعدادوشمار اس اہم آبی گزرگاہ میں سرگرمیوں میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں، اگرچہ امریکی حکام ایران کے دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

دوسری جانب لبنان میں اتوار کو نسبتاً پُرسکون صورتحال دیکھی گئی اور بڑے پیمانے پر تشدد کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ جنوبی لبنان میں بعض بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹتے بھی دیکھے گئے، تاہم غیر پھٹے ہوئے بموں اور سکیورٹی خدشات کے باعث صورتحال اب بھی نازک تصور کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں