پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘، ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

0
1

مکہ مکرمہ (ایم این این): پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ کو "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” پر دستخط کر دیے، جس کے تحت تینوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اجتماعی دفاعی تعاون کے تحت مشترکہ ردعمل دیا جائے گا۔

تاریخی معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مکہ المکرمہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے موقع پر الصفا پیلس میں دستخط کیے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ اور سعودی خبر رساں ایجنسی (SPA) کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، علاقائی امن و استحکام، سیکیورٹی تعاون اور دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ معاہدہ کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا جبکہ دفاعی تعاون، عسکری تربیت، انٹیلی جنس، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے تاریخی برادرانہ تعلقات، اسلامی یکجہتی اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہے۔

دستخطی تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ و دفاع بھی شریک تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کو ایک "تاریخی معاہدہ” اور آنے والی نسلوں کے لیے "امن کی ڈھال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایمان، بھائی چارے اور امن کے مشترکہ عزم کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے معاہدے کی تکمیل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کو بھی سراہا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد اور تینوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے اسٹریٹجک تعلقات کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ جارحیت نہیں بلکہ امن کے تحفظ اور دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگ میل ہے اور خطے کو درپیش خطرات سے نمٹنے، امن و استحکام کو فروغ دینے اور مشترکہ ترقی کے لیے تینوں ممالک کے مضبوط سیاسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارتکاری رائد کریملی نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی فوجی اتحاد، فرقہ وارانہ بلاک یا جوہری اتحاد کے قیام کے لیے نہیں بلکہ پائیدار دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے ہے۔ ان کے مطابق یہ کسی بھی علاقائی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی موجودہ دفاعی معاہدوں کا متبادل ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی عسکری مہارت، ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور سعودی عرب کے مالی و تکنیکی وسائل کو یکجا کرتے ہوئے تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکا۔ایران تنازع، بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خدشات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اجلاس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر رجب طیب اردوان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جبکہ پاکستانی وفد نے مکہ مکرمہ میں عمرہ کی سعادت حاصل کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں