گلگت بلتستان میں مارخور، بلیو شیپ اور آئی بیکس کے شکار پرمٹس کی نیلامی

0
2

گلگت (ایم این این): گلگت بلتستان کے محکمہ پارکس اینڈ وائلڈ لائف نے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام 2026-27 کے تحت تین استور مارخور، 14 بلیو شیپ اور 100 ہمالیائی آئی بیکس کے شکار کے پرمٹس نیلام کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

استور مارخور کے شکار پرمٹ کی بنیادی قیمت سب سے زیادہ 2 لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ بلیو شیپ کے شکار پرمٹ کی بنیادی قیمت 25 ہزار ڈالر اور ہمالیائی آئی بیکس کے لیے 11 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

سرکاری نوٹس کے مطابق استور مارخور کا برآمدی کوٹہ چار جانوروں پر مشتمل ہے، تاہم گزشتہ سیزن کا ایک پرمٹ آگے منتقل کیے جانے کے باعث اس سال تین نئے پرمٹس نیلام کیے جائیں گے۔

شکار کے پرمٹس کی کھلی نیلامی 10 ستمبر کو فاریسٹ کمپلیکس، جوتیال گلگت میں منعقد ہوگی۔ ٹرافی ہنٹنگ 15 اکتوبر 2026 سے 10 اپریل 2027 تک صرف مخصوص اور منظور شدہ کنزرویشن علاقوں میں کی جا سکے گی۔

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق شکار کا کوٹہ جنگلی حیات کے ماہرین کی جانب سے کیے جانے والے سالانہ سرویز اور جانوروں کی آبادی کے تخمینے کی بنیاد پر مقرر کیا گیا ہے۔

چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف گلگت بلتستان زاکر حسین کے مطابق گزشتہ سال شکار پرمٹس کی نیلامی سے تقریباً 35 کروڑ روپے حاصل ہوئے، جبکہ ہدف 55 کروڑ روپے مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سیزن میں استور مارخور کے دو، بلیو شیپ کے پانچ اور ہمالیائی آئی بیکس کے 10 پرمٹس استعمال نہیں ہو سکے، جس کے باعث تقریباً 20 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ سیزن کے دوران امن و امان کی صورتحال کے باعث بعض امریکی اور دیگر غیر ملکی شکاریوں نے اپنے شکار کے منصوبے منسوخ کر دیے تھے۔

دوسری جانب مقامی کاروباری افراد اور ٹور آپریٹرز نے گزشتہ دو سال کے دوران شکار پرمٹس کی بنیادی قیمتوں میں نمایاں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گلگت بلتستان کو بین الاقوامی شکار مارکیٹ میں کم مسابقتی بنا دیا ہے اور غیر ملکی شکاریوں کی دلچسپی میں کمی آئی ہے۔

مقامی کاروباری شخصیت اکرم بیگ نے کہا کہ بنیادی قیمتوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافے سے ٹرافی ہنٹنگ اور وائلڈ لائف کنزرویشن پروگرام کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے نہ صرف آمدن متاثر ہوگی بلکہ مقامی کمیونٹیز کی جنگلی حیات کے تحفظ میں دلچسپی بھی کم ہو سکتی ہے۔

مقامی کاروباری اور متعلقہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پرمٹس کی بنیادی قیمتوں پر نظرثانی کرے اور مقامی کمیونٹیز، ماہرین ماحولیات اور متعلقہ کاروباری شعبے سے مشاورت کے بعد متوازن پالیسی مرتب کرے۔

ٹرافی ہنٹنگ پر عالمی سطح پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے، تاہم اس پروگرام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ باقاعدہ اور کنٹرولڈ شکار سے حاصل ہونے والی آمدن جنگلی حیات کے تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام اور مقامی کمیونٹیز کی معاشی مدد میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کا آغاز 1990 میں نگر کی بار ویلی میں مقامی کمیونٹی کی شمولیت سے کیا گیا تھا۔ پروگرام سے حاصل ہونے والی لائسنس فیس کا تقریباً 80 فیصد حصہ مقامی کمیونٹیز کو جنگلی حیات کے تحفظ اور کنزرویشن کے لیے دیا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان اپنی منفرد حیاتیاتی تنوع کے باعث مارخور، آئی بیکس، بلیو شیپ، مارکو پولو شیپ، اڑیال، برفانی چیتے، ریچھ، بھیڑیے اور سنہری عقاب سمیت متعدد نایاب جنگلی جانوروں اور پرندوں کا مسکن ہے۔ تاہم غیر قانونی شکار، وائلڈ لائف مینجمنٹ کے مسائل اور موسمیاتی تبدیلی ان انواع کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں