دعوت ملنے پر مکہ پیکٹ میں شمولیت پر مثبت غور کریں گے، بنگلہ دیش

0
2

ڈھاکا (ایم این این)؛ بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ اگر مکہ پیکٹ کے بانی رکن ممالک کی جانب سے اسے باضابطہ طور پر شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو وہ اس تجویز پر مثبت انداز میں غور کرے گا۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں کہا کہ مکہ پیکٹ میں شمولیت کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ اس کا انحصار معاہدے میں شامل ممالک کی جانب سے بنگلہ دیش کو دعوت دینے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش کو شمولیت کی دعوت دی گئی تو حکومت اس پر مثبت غور کرے گی اور حتمی فیصلہ کرنے سے قبل ملک کے ممکنہ فوائد اور قومی مفادات کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے مکہ پیکٹ کو مسلم دنیا کے لیے ممکنہ اجتماعی دفاعی نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں شمولیت سے متعلق فیصلہ متعلقہ مسلم ممالک کا اندرونی معاملہ ہوگا۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن نے کہا کہ مکہ پیکٹ میں شامل ہونا یا نہ ہونا مکمل طور پر بنگلہ دیش کا اپنا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش ملکی اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرتا ہے تو دوسرے ممالک کو اس پر تشویش نہیں ہونی چاہیے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے بھی کہا تھا کہ ڈھاکا نے اس دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیے جانے کا اصول شامل ہے۔

مکہ پیکٹ کو مسلم ممالک کے درمیان وسیع تر دفاعی اور سلامتی تعاون کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت سے اس اتحاد کے دائرہ کار میں مزید وسعت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں