نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 579 ہوگئیں، 1,924 افراد لاپتا

0
1

کھٹمنڈو (MNN)؛ نیپال میں تباہ کن فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 579 ہوگئی ہے جبکہ 1,924 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ زندہ بچ جانے والوں کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتا افراد میں 517 غیر ملکی شہری اور ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کرنے والے 933 کارکن بھی شامل ہیں۔ یہ منصوبے ان دریاؤں کے قریب واقع تھے جہاں بدھ کی صبح پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا آیا۔

ریسکیو ٹیمیں شدید متاثرہ علاقوں میں کیچڑ اور ملبے میں زندہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیلابی ریلوں نے دیہات اور پہاڑی وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے تباہ ہوگئے۔

تباہ شدہ راستہ کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملاتا ہے اور سیاحوں، ٹریکرز اور زائرین کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

نیپالی حکام نے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے جبکہ منقطع علاقوں میں پھنسے ہزاروں افراد تک ہنگامی امدادی سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر ریسکیو اہلکار کتوں کی مدد سے ملبے میں لاپتا افراد اور لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں۔

سینکڑوں بھارتی شہری بھی لاپتا

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق سیلاب کے بعد تقریباً 320 بھارتی شہری لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق مزید 400 بھارتی شہری چینی حدود میں محفوظ لیکن پھنسے ہوئے ہیں جبکہ 96 افراد زمینی راستے سے نیپال پہنچ چکے ہیں۔

رسووا کے شدید متاثرہ علاقے سے جمعرات کو نکالے جانے والے افراد میں ڈبگا تمانگ بھی شامل تھے، جنہیں مزید تین افراد کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے نوواکوت میں قائم فوجی کیمپ منتقل کیا گیا۔

ڈبگا تمانگ نے تباہی کی انتہائی دلخراش منظرکشی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تمام لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں اور اب ان کا انتظار کرنے والا بھی کوئی نہیں رہا۔

نئی تباہی کا خطرہ، جھیلوں میں پانی کی سطح بلند

حکام نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے بعد جمع ہونے والے پانی اور ملبے سے ایک اور بڑی تباہی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بھوٹیکوشی دریا میں ملبہ جمع ہونے سے بننے والی ایک جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور قدرتی بند ٹوٹنے کی صورت میں مزید شدید سیلاب آسکتا ہے۔

دوسری جانب چین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ تین دن کے دوران تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی ایک پہلے سے بند جھیل میں داخل ہوسکتا ہے، جو تقریباً 1,200 اولمپک سائز کے سوئمنگ پولز کے برابر ہے۔

چینی سرکاری میڈیا نے وزارت آبی وسائل کے حوالے سے بتایا کہ جھیل کے قدرتی بند سے پانی کے اخراج کا خطرہ موجود ہے جبکہ پانی کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ یکم ستمبر کے آس پاس متوقع ہے۔

چین نے جھیل کا فضائی جائزہ لینے اور تھری ڈی ماڈل تیار کرنے کے لیے آٹھ رکنی انجینئرنگ ٹیم تعینات کی ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ اور غیر مستحکم چٹانوں کے باعث رسائی انتہائی مشکل ہے۔

ماہرین جھیل کے پانی کی سطح کم کرنے کے لیے قدرتی بند کے نچلے حصے میں نکاسی آب کا راستہ بنانے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، تاہم اس کی چوڑائی اور گہرائی کا تعین پانی کے بہاؤ اور جھیل میں پانی جمع ہونے کی رفتار کے مطابق کیا جائے گا۔

ہائیڈرو پاور سرنگ میں 100 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ

نیپالی فوج کی ٹیمیں پہاڑی ضلع رسووا میں ٹریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں پھنسے 100 سے زائد افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔

بھارت نے پیچیدہ ہمالیائی سرنگوں میں ریسکیو کا تجربہ رکھنے والی خصوصی ٹیم نیپال بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

نیپالی فوج نے دو ہیلی کاپٹرز بھی علاقے میں بھیجے ہیں، تاہم حکام کے مطابق امدادی کارروائی انتہائی مشکل ہے کیونکہ ملبے اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے باعث سرنگ کے داخلی راستوں کی نشاندہی بھی دشوار ہوچکی ہے۔

لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی خیریت کی اطلاع کے منتظر ہیں۔

چینی ریسکیو ٹیم تباہ شدہ تبت سرحدی علاقے تک پہنچ گئی

چین کے زیرانتظام تبت میں بھی چین اور نیپال کی سرحد کے قریب تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ مرکزی علاقے تک چینی ریسکیو ٹیم جمعہ کو پہنچ گئی۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق 21 رکنی ریسکیو ٹیم تباہ شدہ گیئرونگ بارڈر ٹریڈ ہب تک پہنچنے والی پہلی ٹیم تھی، جہاں بدھ کو مٹی اور ملبے کا ایک بڑا ریلا آیا تھا۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے جبکہ 558 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امدادی کارروائیوں کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی اور خبردار کیا کہ علاقے میں گلیشیئرز، برفانی جھیلوں اور دیگر ارضیاتی آفات کے خطرات برقرار ہیں۔

چینی حکام کے مطابق ایک جھیل سے متعلق خطرہ اب بتدریج کم ہو رہا ہے اور 27 اگست کی صبح ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح کے مقابلے میں پانی کی سطح تقریباً 10 میٹر کم ہوچکی ہے۔

لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ڈرونز، تھری ڈی ماڈلنگ، تھرمل امیجنگ اور دستی سرچ آپریشن استعمال کیے جا رہے ہیں۔

چین نے نیپال کے ریسکیو آپریشنز میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین نیپال کی امدادی کوششوں میں اپنی استطاعت کے مطابق مدد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

عمارتیں ملبے میں تبدیل، لواحقین معلومات کے منتظر

دوسری جانب دنیا بھر میں لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں پریشان ہیں۔ نیپال اور تبت کا سفر کرنے والے غیر ملکی سیاحوں میں متعدد امریکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں شمالی ورجینیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک گروپ بھی شامل ہے جو ماؤنٹ کیلاش کی جانب ٹریکنگ کے لیے گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے نیپال کو امداد کی پیشکش کی ہے اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے نیپالی ہم منصب بالیندر شاہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے اظہارِ تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستان نے نیپال کے امدادی آپریشن میں معاونت کے لیے ہنگامی امدادی سامان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ضلع چتوان کے منتظم گنیش آریال کے مطابق دریائی نظام سے 103 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ چتوان شدید متاثرہ ٹریشولی علاقے سے تقریباً 100 کلومیٹر دور میدانی علاقے میں واقع ہے۔

مقامی اسپتالوں میں لاشوں کی گنجائش کم پڑنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے عارضی خیمے قائم کیے ہیں اور لواحقین کو اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

نیپالی وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا کہ ریاست کے تمام ادارے پوری صلاحیت کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات ہر شہری کی جان بچانا، لاپتا افراد کو تلاش کرنا، زخمیوں کا علاج اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنا ہیں۔

یہ تباہی پانچ ماہ پرانی بالیندر شاہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ نیپال کو بڑے پیمانے کی قدرتی آفات سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے، جس میں 2015 کا تباہ کن زلزلہ بھی شامل ہے جس میں تقریباً 9,000 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں