پاکستان کے افغان سرحدی علاقے میں ’کیلِبریٹڈ‘ فضائی حملے، 28 دہشت گرد ہلاک

0
1

اسلام آباد (MNN)؛ پاکستان نے افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کے خلاف ’کیلِبریٹڈ‘ فضائی حملے کیے ہیں، جن میں 28 دہشت گرد، متعدد خودکش بمباروں سمیت، ہلاک ہوئے ہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے پیر کو کارروائی کی تصدیق کی۔

وزارت اطلاعات کے مطابق فضائی حملے قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اور ان میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں کے کیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں پاکستان خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق تین اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا گیا، جن میں خودکش بمباروں کا تربیتی مرکز بھی شامل تھا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں ذخیرہ کیے گئے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔

وزارت کے مطابق فضائی کارروائی سے قبل خیبر پختونخوا کے اضلاع کوہاٹ اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز نے ایک ’منصوبہ بندی کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ‘ زمینی آپریشن کیا، جس میں 9 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

یوں زمینی اور فضائی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 37 دہشت گردوں کی ہلاکت کی سرکاری اطلاع دی گئی ہے۔

پاکستانی ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے لیے فتنہ الخوارج کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششیں کرتا رہا ہے، تاہم پاکستانی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزارت نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ افغان سرزمین سے پیدا ہو رہا ہے اور تازہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے مراکز کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق کارروائی کے دوران شہری نقصانات اور دیگر ممکنہ ضمنی نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔

تازہ فضائی حملے کوہاٹ میں ہونے والے ایک بڑے دہشت گرد حملے کے چند روز بعد کیے گئے ہیں، جس میں 23 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے بعد علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے رات بھر جاری رہنے والے آپریشن میں 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پیر کو کوہاٹ کا دورہ کیا اور حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں زیر علاج زخمی اہلکاروں کی بھی عیادت کی۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

افغان سرزمین سے دہشت گردی پر پاکستان کا مؤقف

اسلام آباد متعدد مواقع پر افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین پر سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کرے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ کابل کی جانب سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف عملی اقدامات کے بغیر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔ اسلام آباد یہ بھی کہتا رہا ہے کہ تیسرے ممالک کی سفارتی کوششیں افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد انفراسٹرکچر کے خلاف براہ راست کارروائی کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔

تازہ کارروائیاں رواں سال افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی دیگر فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔ جون کے آخر میں پاکستان نے کہا تھا کہ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں فضائی کارروائیوں کے دوران 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ اسی ماہ کے آغاز میں افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی میں 26 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جاری انسداد دہشت گردی مہم کو ’غضب للحق‘ کا نام دیا گیا ہے، جو ’عزمِ استحکام‘ کے وسیع تر وژن کے تحت جاری ہے۔ وزارت نے کہا کہ غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

تازہ کارروائیوں سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد ماضی میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے افغانستان کے اندر فوجی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدام کی وارننگ بھی دی تھی، جسے پاکستان کی وزارت اطلاعات نے مسترد کر دیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں