تہران (ایم این این): چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر جمعہ کی شام تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے دورے کے دوران ایران۔امریکا مذاکرات، علاقائی امن اور دیگر اہم امور پر ایرانی قیادت سے تبادلہ خیال کریں گے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مسلسل پاکستانی قیادت سے رابطے میں ہے اور پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی رابطہ کار ملک ہے۔
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی جس میں تنازع کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
یہ سفارتی سرگرمیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا۔
پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔ اگرچہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، تاہم بات چیت مکمل طور پر ناکام بھی نہیں ہوئی۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نمائندوں کے مجوزہ دورۂ اسلام آباد کو منسوخ کر دیا، تاہم فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی گئی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان مسلسل تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کروا رہا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین کے دوران ایران۔امریکا تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ تہران کو امریکا کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات میں بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس تنازع کا مرکزی نکتہ بنی ہوئی ہے جبکہ عالمی برادری خطے میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔


