بیجنگ/اسلام آباد (ایم این این): وزیرِ اعظم شہباز شریف اتوار کے روز چار روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
وزیرِ اعظم ہفتے کے روز پہلے ہانگژو پہنچے تھے، جہاں انہوں نے پاک چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کیا، جس کے بعد وہ بیجنگ روانہ ہوئے۔ چینی دارالحکومت پہنچنے پر ان کا استقبال چین کے وزیرِ ماحولیات ہوانگ رون چیو نے کیا۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق اس دورے کا مقصد پاک چین ہر موسم کی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت تعاون کو آگے بڑھانا ہے۔ اس تعاون میں تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط شامل ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی پچہترویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
ہانگژو میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تیسری پاک چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی صدارت کی، جس میں چارجنگ انفراسٹرکچر، بیٹری توانائی ذخیرہ، شمسی ٹیکنالوجی اور ادویہ سازی کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔
انہوں نے چینی صوبائی قیادت اور بڑی کمپنیوں اسٹار چارج، سی اے ٹی ایل اور شیو ژینگ فارماسیوٹیکل کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں تاکہ سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
سی اے ٹی ایل کے ساتھ بات چیت میں جدید بیٹریوں، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور شمسی توانائی سے متعلق حل پر گفتگو ہوئی تاکہ پاکستان کی صاف توانائی کی جانب منتقلی میں مدد دی جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے علی بابا کے مرکزی دفتر کا بھی دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال ایگزیکٹو چیئرمین جو تسائی نے کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین میں مزدوری کی لاگت میں اضافے کے باعث کئی صنعتوں کے لیے پاکستان میں منتقل ہونے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، لیدر اور دیگر صنعتی شعبوں میں چینی اور پاکستانی کاروباری افراد مشترکہ منصوبوں کے ذریعے کامیاب تعاون کر سکتے ہیں۔
انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو کراچی کے برآمدی زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور پاکستان کے معدنی ذخائر اور قیمتی پتھروں کو سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبہ قرار دیا۔
زراعت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی معیشت ہے۔ گزشتہ برس ایک ہزار پاکستانی طلبہ جدید زرعی تربیت کے لیے چین گئے تھے، اور اب وہ ملک میں مؤثر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ پانچ سے سات برس میں چین کو پاکستان کی زرعی برآمدات میں تقریباً دس ارب ڈالر اضافہ ممکن ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں طویل مدتی لیز پر زمین فراہم کرے گا، جہاں جدید انفراسٹرکچر، کاروبار دوست ماحول اور ون ونڈو سہولت دستیاب ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس دورے کے دوران اربوں ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً تیس فیصد باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔


