اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا مجوزہ بجٹ ملک کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں برآمدات کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں کے استحکام اور معاشی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔
وزیر خزانہ نے برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے اور سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کو صنعت اور برآمدات کے فروغ کے لیے اہم اقدام قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ 150 ملین سے 500 ملین روپے سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے اس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر برآمد کنندگان کو مزید سہولتیں دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی تجویز کی گئی ہے تاکہ برآمدی شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط، شرح سود مستحکم اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے تو پہلے مقامی اور پھر غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔
صوبائی ترقیاتی فنڈز میں تین سالہ منجمد پالیسی کے حوالے سے انہوں نے صوبوں کو قومی ضروریات میں تعاون پر سراہا اور کہا کہ اس انتظام سے سیکیورٹی سمیت اہم قومی ترجیحات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں اور پورے ملک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 4.3 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے ممکنہ انضمام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کے رائٹ سائزنگ پروگرام کے تحت مختلف اداروں کے انضمام پر غور کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم اصولی طور پر اس کی منظوری دے چکے ہیں۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ فیصلہ مہنگائی کی شرح اور دستیاب مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے آٹومیشن، ڈیجیٹل نگرانی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھا رہی ہے تاکہ انسانی مداخلت کم اور شفافیت زیادہ ہو۔
پٹرولیم لیوی کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ اس میں اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ممکنہ خطرات کو بجٹ منصوبہ بندی میں شامل کیا ہے۔
آبادی میں تیزی سے اضافے کو "وجودی مسئلہ” قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مانع حمل اشیا اور سینیٹری مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز اسی تناظر میں دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں آبادی کے عنصر پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت خام مال اور صنعتی اشیا کی لاگت کم کرنے کے لیے پانچ سالہ ٹیرف اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات آئندہ سال 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے اور حکومت نے آئی ٹی صنعت اور فری لانسرز کے مطالبات کے مطابق 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پورا بجٹ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے تصور پر تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غربت میں کمی صرف اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت کرے۔
وزیر خزانہ نے زرعی قرضوں میں 15 فیصد سالانہ اضافے اور مجموعی زرعی فنانسنگ کے 2 کھرب روپے سے تجاوز کر جانے کی بھی نشاندہی کی۔
انہوں نے بتایا کہ زرخیز اسکیم کے تحت چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت قرضے دیے جا رہے ہیں جبکہ وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے 262 ارب روپے میں سے 125 ارب روپے زراعت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زرعی مشینری، ٹریکٹرز، کمبائن ہارویسٹرز اور سینٹری فیوگل پمپس پر کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات غیر معمولی نوعیت کی ہیں اور شفافیت بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بجٹ کو تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں، برآمد کنندگان، تعمیراتی شعبے اور گھر بنانے کے خواہش مند کم آمدنی والے افراد کا بجٹ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے طبقات کو خصوصی ریلیف فراہم کیا گیا ہے جبکہ برآمدی شعبے اور صنعتوں کے اہم مطالبات بھی پورے کیے گئے ہیں۔
مجوزہ بجٹ میں سوشل میڈیا آمدنی پر ٹیکس، چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم، الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے مراعات اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متعدد دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔


