جنگی حالات کے سائے میں ایران آج نیوزی لینڈ کے خلاف ورلڈ کپ مہم کا آغاز کرے گا

0
6


ٹیجوانا، میکسیکو (ایم این این); ایران آج فیفا ورلڈ کپ میں اپنی مہم کا آغاز نیوزی لینڈ کے خلاف کرے گا، جبکہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال اور فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے حالات اس ٹورنامنٹ پر اثرانداز رہے ہیں۔

ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان یہ ورلڈ کپ تاریخ کا پہلا مقابلہ ہوگا۔ یہ میچ ایسے وقت میں کھیلا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایرانی نژاد افراد کی بڑی آبادی موجود ہے، جس سے مقابلے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

نیوزی لینڈ، جسے آل وائٹس کے نام سے جانا جاتا ہے، 2010 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں شرکت کر رہا ہے اور ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

ایران کی شرکت اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی ہے کہ وہ ایسے ورلڈ کپ میں حصہ لے رہا ہے جس کا ایک میزبان ملک اس کے ساتھ تنازع میں شامل رہا ہے۔ ورلڈ کپ کی 96 سالہ تاریخ میں اس نوعیت کی صورتحال پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔

جنگی حالات کے باعث ایرانی ٹیم کی تیاریوں میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ ابتدا میں ایران کی شرکت غیر یقینی دکھائی دے رہی تھی جبکہ ٹیم نے اپنا بیس کیمپ ایریزونا کے شہر ٹکسن سے منتقل کرکے میکسیکو کے شہر ٹیجوانا میں قائم کیا۔

اس فیصلے کے بعد ایرانی ٹیم کو گروپ مرحلے کے ہر میچ کے لیے امریکا کا سفر کرنا پڑے گا۔

اگرچہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ٹیم کے گرد تنازعات برقرار ہیں۔ ایرانی فٹبال حکام نے فیفا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فٹبال فیڈریشن کے 11 عہدیداروں کو ٹورنامنٹ کے لیے ویزے جاری نہیں کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی ٹیم کو ہر میچ کے دن امریکا میں داخل ہونے اور 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایران کی شرکت کے حوالے سے حساس ماحول کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ لاس اینجلس میں افتتاحی تقریب کے دوران ایرانی پرچم میدان میں لائے جانے پر بعض تماشائیوں کی جانب سے ہوٹنگ سنائی دی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں