اسلام آباد (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے منگل کے روز سابق وزیراعظم کے طبی علاج کے حوالے سے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا آزاد اور ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ عمران خان کو 15 جون کی علی الصبح ایک بار پھر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا، جبکہ اہل خانہ کو اس بارے میں براہ راست آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق انہیں اس پیش رفت کا علم بیرسٹر گوہر کی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہوا۔
علیمہ خان نے عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی طبی رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی اسپتال نے ان کی بینائی میں نمایاں بہتری کے دعوے کیے تھے جنہیں بعد میں عمران خان نے خود مسترد کر دیا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کی بینائی میں اتنی بہتری آ چکی تھی تو پھر پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
علیمہ خان نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہرین کی نگرانی میں کرایا جائے، کیونکہ یہ ایک فوری اور اہم معاملہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود گزشتہ آٹھ ماہ سے خاندان کے افراد کو عمران خان سے ملاقات کی مکمل اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی محدود مواقع پر ملاقات کی اجازت دی گئی اور آخری ملاقات دسمبر 2025 میں ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تنہائی میں رکھنا اور ان کے حقوق محدود کرنا نہ صرف سیاسی مسئلہ ہے بلکہ جیل قوانین اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی بھی ہے۔
علیمہ خان کے مطابق جیل قوانین کے تحت عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے، خاندان اور وکلا سے ملاقات، کتابوں، اخبارات اور ٹیلی ویژن تک رسائی، مناسب طبی سہولیات اور کسی بھی طبی عمل سے قبل اہل خانہ کو آگاہ کیے جانے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق عمران خان کو منگل اور جمعرات کے روز وکلا، اہل خانہ اور پارٹی نمائندوں سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں اور انہیں اہل خانہ کی موجودگی میں آزادانہ اور پیشہ ورانہ طبی علاج فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب پیر کے روز عمران خان کو آنکھ کے معائنے اور فالو اپ علاج کے لیے پمز منتقل کیا گیا، جہاں انہیں آنکھ کے مرض کے علاج کے سلسلے میں پانچواں اینٹی وی ای جی ایف انٹراویٹریل انجیکشن لگایا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ماہر امراض چشم نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا۔
عمران خان کو اس سے قبل 28 اپریل کو یہی انجیکشن دیا گیا تھا۔ ان کی آنکھوں کی بیماری، جسے رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کہا جاتا ہے، جنوری میں تشخیص ہوئی تھی۔ اس کے بعد جنوری، فروری اور مارچ میں بھی انہیں علاج کے مراحل سے گزرنا پڑا۔
گزشتہ چند ماہ سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عمران خان کے طبی علاج کے معاملے پر اختلافات جاری ہیں۔ اپوزیشن حکومت پر علاج میں شفافیت نہ رکھنے اور ذاتی معالجین تک رسائی محدود کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، جبکہ حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
اپوزیشن مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ان کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیا جائے اور انہیں اہل خانہ سے ملاقات کی مکمل سہولت فراہم کی جائے۔


