امریکا-ایران معاہدہ قریب، ایران کا لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت ردعمل کی وارننگ

0
3

تہران/پیرس (ایم این این): ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تیاریوں کے دوران ایرانی حکام نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید ردعمل کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایران کے خاتم الانبیاء عسکری ہیڈکوارٹر کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ دو روز کے دوران جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی 84 مرتبہ خلاف ورزی کی ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق عسکری حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی کارروائیاں بند نہ کیں تو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج سخت جواب دیں گی۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکا کو مجوزہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کرکے تہران کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا انخلا معاہدے کے اہم نکات میں شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان عبوری مفاہمتی یادداشت پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے بورگن اسٹاک تفریحی مقام پر دستخط متوقع ہیں۔ سوئس حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے ساتھ مسلسل رابطے جاری ہیں۔

سوئس وزارت خارجہ کے مطابق اس مقام کا انتخاب پاکستانی اور قطری ثالثوں کے علاوہ واشنگٹن اور تہران کی مشاورت سے کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے کے بعد مزید ساٹھ روزہ مذاکرات ہوں گے جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے سمیت حتمی اور جامع معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری قوانین کے تحت آزاد اور محفوظ جہاز رانی کے اصولوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سفارتی کوششیں خطے میں امن، استحکام اور سیاسی حل کی راہ ہموار کریں گی۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی لبنان کے اسپیکر نبیہ بری سے گفتگو میں اسرائیل سے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان کے شہریوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

ادھر اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے مجوزہ فریم ورک معاہدے میں ایران میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 300 ارب ڈالر کے نجی سرمایہ کاری فنڈ کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری کا نصف سے زائد حصہ پہلے ہی یقینی بنایا جا چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران کو فوری طور پر تیل اور ایندھن کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جسے دونوں ممالک کے لیے اہم معاشی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانس میں جی-7 اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے لبنان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے معاملے میں شام کو کردار ادا کرنے دینا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی موجودہ قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دمشق اس مسئلے سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے اور اس طرح شہری ہلاکتوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایک وسیع تر سیاسی و سفارتی معاہدے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں