واشنگٹن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز نئے ایئر فورس ون طیارے کی رونمائی کر دی، جو پہلے قطر کی ملکیت میں موجود ایک بوئنگ جمبو جیٹ تھا اور اب اسے امریکی صدر کے سرکاری طیارے کے طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
نئے طیارے میں روایتی ہلکے نیلے رنگ کی جگہ گہرے نیلے، سرخ اور سفید رنگوں پر مشتمل نیا ڈیزائن اختیار کیا گیا ہے۔ طیارے کے داخلی حصے کے قریب صدارتی مہر نصب کی گئی ہے جبکہ دم پر امریکا کا بڑا قومی پرچم نمایاں کیا گیا ہے۔
اینڈریوز ایئر فورس بیس میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے طیارے کو "فضا میں اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس” قرار دیا اور کہا کہ اس میں ایسی آسائشیں موجود ہیں جن کی مثال پہلے نہیں ملتی۔
صدر نے تصدیق کی کہ وہ آئندہ ماہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں اسی طیارے کے ذریعے شرکت کریں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں چین کے ممکنہ دورے سمیت دیگر غیر ملکی سفر بھی اسی طیارے کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ طیارہ امریکا کی عالمی حیثیت اور وقار کی عکاسی کرتا ہے اور دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر امریکی نمائندگی کو مزید مؤثر بنائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چار جولائی کی یومِ آزادی تقریبات کے دوران یہ طیارہ خصوصی فضائی مظاہرہ کرے گا۔
قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے اس بوئنگ 747 طیارے کو صدارتی استعمال کے لیے خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا ہے اور اسے عارضی طور پر اس وقت تک استعمال کیا جائے گا جب تک بوئنگ کمپنی کی تیار کردہ نئی ایئر فورس ون طیاروں کی کھیپ 2028 میں فراہم نہیں ہو جاتی۔
امریکی انتظامیہ نے گزشتہ سال اس طیارے کو باضابطہ طور پر قبول کیا تھا، اگرچہ غیر ملکی حکومت کی جانب سے اتنے قیمتی تحفے کے حصول پر قانونی اور اخلاقی سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے بعد اس قطری طیارے کو استعمال نہیں کریں گے اور مستقبل میں اسے صدارتی لائبریری کے لیے وقف کر دیا جائے گا۔
انہوں نے بوئنگ کی جانب سے نئے طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کو موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ قرار دیا اور کہا کہ اصل منصوبے کے مطابق یہ طیارے 2024 میں فراہم کیے جانے تھے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق طیارے میں سخت سکیورٹی اور آپریشنل تقاضوں کے مطابق وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ اس کے اندرونی حصے کی بیشتر اصل ساخت برقرار رکھی گئی ہے۔
فضائیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ صدارتی طیارے، جنہیں وی سی پچیس اے کہا جاتا ہے، فوری طور پر ریٹائر نہیں ہوں گے بلکہ نئی نسل کے وی سی پچیس بی طیاروں کے مکمل فعال ہونے تک استعمال میں رہیں گے۔ آپریشنل ضروریات کے مطابق صدارتی پروازوں کے لیے موجودہ اور نئے دونوں طیارے دستیاب ہوں گے۔


