اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی پر متفق، امریکا۔ایران امن معاہدے کے بعد کشیدگی میں کمی کی امید

0
4
Lebanese soldiers are deployed in the village of Beer al-Salassel, south Lebanon, after people start to return to their villages following the announcement of an initial ceasefire agreement between the United States and Iran, Monday, June 15, 2026. (AP Photo/Mohammed Zaatari)

بیروت/واشنگٹن (ایم این این): لبنان میں کئی روز سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار اور حزب اللہ کے ذرائع نے جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاہدہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے سے نافذ العمل ہوا۔ اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ حملے بند رکھے گی تو اسرائیل بھی جنگی کارروائیاں نہیں کرے گا، تاہم اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔

لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے، تاہم شام پانچ بجے کے بعد کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی فوج نے بعض اطلاعات کی تردید کی، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ اس وقت کے بعد کوئی فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔

بعد ازاں لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی کہ جنوبی لبنان میں ایک موٹر سائیکل پر ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

جنگ بندی سے قبل اسرائیلی حملوں میں کم از کم 47 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اسرائیل نے بھی اعلان کیا کہ حزب اللہ کے ایک بڑے حملے میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ جنگ بندی امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے وسیع تر معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت تمام فریقوں اور ان کے اتحادیوں کو لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کرنا ہوگی۔ تاہم معاہدے کے باوجود گزشتہ چند روز کے دوران تشدد میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔

حزب اللہ کے رکن پارلیمان حسن فضل اللہ کے مطابق ایران نے گروپ کو آگاہ کیا تھا کہ جامع جنگ بندی کے بغیر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کے تعاون سے جنگ بندی ممکن بنائی۔

اسرائیلی حکام نے امریکا اور ایران کے وسیع تر معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اسرائیل کے خدشات کا مکمل حل موجود نہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس سے قبل چار فوجیوں کی ہلاکت پر سخت ردعمل دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے جنگجوؤں اور تنصیبات کو ان حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا جنہیں وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی الزامات مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل خود جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کر رہا ہے، شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور گھروں و بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے۔

رات بھر کی شدید لڑائی دریائے لیتانی کے شمال میں واقع اہم عسکری مقام علی الطاہر پہاڑی کے گرد مرکوز رہی۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا، تین میرکاوا ٹینک تباہ کیے اور راکٹوں و توپ خانے سے اسرائیلی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق دو مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 3,912 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں طبی عملے کے ارکان، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ موجودہ جھڑپوں میں اس کے کم از کم 32 فوجی اور چار شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں