امریکا-ایران مذاکرات: ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا، شہباز شریف اور جے ڈی وینس بھی شریک

0
2

زیورخ (ایم این این): امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات سے قبل ایرانی اعلیٰ سطحی وفد ہفتے کی شب سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا، جہاں بورگن اسٹاک میں تکنیکی اور سفارتی سطح کے مذاکرات منعقد ہوں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بوارد اور نائب وزرائے خارجہ اسماعیل بقائی اور کاظم غریب آبادی بھی شامل ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں۔ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی سے متعلق معاملات پر مثبت پیش رفت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود لبنان کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف بھی ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں اور ان کی اتوار کی صبح زیورخ پہنچنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق باضابطہ مذاکرات سے قبل وزیراعظم ایرانی وفد سے الگ ملاقات کریں گے، جس کے بعد ان کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات متوقع ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی پاکستانی وفد کا حصہ ہوں گے اور مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ ان بات چیت کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانا اور اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

دریں اثنا لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ہفتے کے روز کم از کم 20 افراد جاں بحق ہوئے، حالانکہ ایک روز قبل ہی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حملے حزب اللہ کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مسلسل حملے امن کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بورگن اسٹاک مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ پاکستان اور قطر کے ثالث بھی شریک ہوں گے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان مفاہمت کو آگے بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان ایک وسیع تر معاہدے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں