اسلام آباد (ایم این این): وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن عمل کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کا امکان ہے، جہاں پاکستان ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل ہفتہ کی رات اسلام آباد سے روانہ ہو سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ پہلے ہی تہران پہنچ چکے ہیں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایرانی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں۔
دفترِ خارجہ نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اگلے مرحلے کے طور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں ہوں گے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان اور قطر کے ثالث بھی شریک ہوں گے۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا سہولت کار اور ثالثی کردار جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ جلد سوئٹزرلینڈ جائیں گے، جبکہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ایران نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت کے لیے اپنا وفد سوئٹزرلینڈ بھیجے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران معاہدے کے تمام نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور دوسرے فریق کی ذمہ داریوں کے بارے میں وضاحت حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کی کسی شق پر عملدرآمد نہ ہوا تو پورا معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، لہٰذا تمام فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرنا ہوں گی۔
چودہ نکاتی معاہدے پر جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے تھے جبکہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ثالث کی حیثیت سے اس معاہدے میں کردار ادا کیا تھا۔ معاہدے میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور آئندہ ساٹھ روز کے دوران مزید مذاکرات کے فریم ورک پر اتفاق کیا گیا ہے۔
سو سے زائد دن جاری رہنے والے تنازع کے خاتمے کے بعد اس معاہدے کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور عالمی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی کم ہونے کی امید ہے۔
معاہدے کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں ختم کرے گا اور اہم تیل پابندیوں میں نرمی لائے گا، جبکہ ایران بین الاقوامی تجارتی جہازرانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا۔ اس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حتمی سمجھوتے اور خطے کی تعمیرِ نو کے لیے مجوزہ فنڈ پر بھی مزید پیش رفت کی جائے گی۔


