مشرقی کانگو میں ایبولا کی وبا شدت اختیار کر گئی، بے گھر افراد کے کیمپوں میں اموات میں اضافہ

0
1

اسلام آباد (ایم این این): جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جہاں صوبہ ایتوری کے شہر بونیا میں واقع کیگونزے بے گھر افراد کے کیمپ میں مئی کے آغاز سے اب تک کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

15 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل یہ کیمپ شدید گنجان آبادی، پانی کی قلت، ناقص صفائی اور محدود طبی سہولیات جیسے مسائل کا شکار ہے۔ حکام کے مطابق اموات کی شرح غیرمعمولی حد تک بلند ہے۔ متاثرہ افراد میں بخار، سر درد، قے اور خون بہنے جیسی ایبولا کی علامات پائی گئیں، تاہم ابتدائی مرحلے میں ٹیسٹ کروانے سے انکار کے باعث بیماری کی بروقت تصدیق نہ ہو سکی۔

مئی 2026 میں اعلان کردہ یہ وبا کانگو میں ایبولا کا 17واں پھیلاؤ ہے اور یہ بنڈی بوجیو وائرس کی قسم سے منسلک ہے، جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔ طبی ماہرین اس وقت معاون طبی نگہداشت کے ذریعے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔

جون کے آخر تک حکام تقریباً 900 سے 950 مصدقہ کیسز اور 230 سے زائد اموات رپورٹ کر چکے ہیں۔ وائرس ایتوری، شمالی کیوو اور جنوبی کیوو سمیت متعدد صوبوں تک پھیل چکا ہے، جبکہ پڑوسی ملک یوگنڈا میں سامنے آنے والے محدود کیسز پر قابو پانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو سکیورٹی خدشات، طبی عملے پر حملوں، غلط معلومات، عوامی عدم اعتماد، غیر محفوظ تدفینی رسومات اور علاج مراکز سے مریضوں کے فرار جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی کانگو میں جاری تنازعے کے باعث بے گھر ہونے والے پچاس لاکھ سے زائد افراد میں وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ موجود ہے، خصوصاً گنجان آباد کیمپوں میں جہاں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں