اسلام آباد (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو اسلام آباد میں پاکستان کے سب سے بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر اور اسکائی 47 اے آئی کلاؤڈ کا افتتاح کرتے ہوئے اسے ملک کی ڈیجیٹل ترقی، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔
اس جدید ڈیٹا سینٹر کی ابتدائی استعداد 8.5 میگاواٹ ہے، جبکہ اسکائی 47 کراچی کے پورٹ قاسم میں بھی 5 میگاواٹ کا ایک جدید ڈیٹا سینٹر تعمیر کر رہا ہے، جو رواں سال ستمبر میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس منصوبے کو "حیران کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا اور اس میں فوجی و سول شعبوں کے بہترین ماہرین اور انجینئرز نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی نگرانی میں یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچا، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرز پر دیگر شعبوں میں بھی کام کیا جائے تو پاکستان نہ صرف ماضی کے نقصانات کا ازالہ کر سکتا ہے بلکہ ایک جدید، متحرک اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
وزیراعظم نے معرکۂ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی کامیابیاں ثابت کرتی ہیں کہ مضبوط عزم اور اجتماعی کوشش سے ہر مشکل کو موقع میں بدلا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اے آئی ڈیٹا سینٹر کو "پاکستان کا مستقبل” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ مستقبل میں کراچی اور لاہور میں بھی اسی نوعیت کے جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے تمام سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ڈیجیٹل خدمات اور ڈیٹا کو اس جدید قومی انفراسٹرکچر سے منسلک کریں تاکہ محفوظ، خودمختار اور تیز رفتار کلاؤڈ سروسز کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
وزیر آئی ٹی کا اظہار خیال
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ڈیٹا سینٹر صحت، زراعت، تعلیم، مالیاتی خدمات، قومی سلامتی، صنعت اور سرکاری نظم و نسق سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اعلیٰ معیار کی کمپیوٹنگ سہولیات فراہم کرے گا۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ میکنزی کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی طلب تین گنا ہو جائے گی، جبکہ گولڈمین سیکس کے مطابق اسی عرصے میں اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے بجلی کی ضرورت میں 160 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت ہے، جبکہ اس منصوبے کے ذریعے ملک کو عالمی معیار کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی میسر آئے گا۔
وزیر آئی ٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن کے تحت گزشتہ دو برسوں میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جن میں 5G اسپیکٹرم نیلامی، زیرِ سمندر فائبر نیٹ ورک کی توسیع، براڈ بینڈ اصلاحات، اے آئی مہارتوں کے پروگرامز اور نیشنل انکیوبیشن سینٹرز کے ذریعے اے آئی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی شامل ہیں۔
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نومبر 2025 میں ٹیلینور پاکستان اور ڈیٹا والٹ نے ملک کا پہلا مقامی خودمختار اے آئی کلاؤڈ متعارف کرایا تھا، جبکہ حال ہی میں کوانٹم گلوبل ڈیٹا سینٹر (کیو جی ڈی سی) نے ہواوے پاکستان کے اشتراک سے 230 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک جدید ٹیئر تھری ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا، جو 2027 میں فعال ہونے کی توقع ہے۔
وفاقی ادارے بھی مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سمیت مختلف اداروں نے شفافیت، کارکردگی اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری کے لیے اے آئی پر مبنی نظام متعارف کرانا شروع کر دیے ہیں۔


