سعودی عرب آبنائے ہرمز پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور، تیل کی ترسیل کو بڑا دھچکا

0
1

دوحہ/اسلام آباد/تہران (MNN)؛ سعودی عرب نے اپنے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی برآمدات بڑھانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ بلومبرگ نیوز کے مطابق اس پیش رفت سے سعودی عرب پر اپنے خام تیل کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کو نظرانداز کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے خام تیل منتقل کرنے کی اہم سہولت فراہم کرتی ہے، تاہم حملے کے بعد اس پائپ لائن کو بند کردیا گیا۔

بلومبرگ کے مطابق پائپ لائن سے روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جارہا تھا، جس کے باعث یہ سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا ایک انتہائی اہم متبادل راستہ تھی۔

پائپ لائن کی بندش کے بعد سعودی عرب آبنائے ہرمز پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہوگیا ہے، حالانکہ خطے میں فوجی کشیدگی اور سمندری راستوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی جنگ اور عالمی توانائی کی فراہمی کو لاحق خطرات کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کے اشارے ملے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ایران “جلدی اور شدت سے” معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور یہ فیصلہ وہ خود کریں گے کہ امریکا اس کوشش میں شامل ہوگا یا نہیں، تاہم انہوں نے بات چیت کے امکان کے لیے امریکی آمادگی کا بھی عندیہ دیا۔

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر حادثہ، سمندری نقل و حمل کے خطرات بڑھ گئے

ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر مبینہ طور پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے پھٹ گیا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے یہ اطلاع دی۔

فارس نیوز نے جہاز کی شناخت پاناما کے پرچم بردار “ایل گایا” کے طور پر کی، تاہم پاسداران انقلاب نے یہ نہیں بتایا کہ واقعہ کب پیش آیا۔

ٹینکر پر حملے کی اطلاعات پہلی مرتبہ اتوار کو سامنے آئی تھیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق جہاز پر سوار 14 بھارتی شہریوں میں سے 13 کو بچا لیا گیا جبکہ ایک لاپتا رکن کی تلاش جاری تھی۔

اس واقعے نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی کے حوالے سے مزید خدشات پیدا کردیئے ہیں، جہاں جاری تنازع کے دوران متعدد بحری جہاز متاثر یا ان کی آمدورفت میں خلل پڑنے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

یہ رپورٹ امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

جنوبی ایران میں دو ماہی گیری کی کشتیاں ڈرون حملوں کا نشانہ

دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے مطابق جنوبی ایران میں دو ماہی گیری کی کشتیوں کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد متعدد ماہی گیروں کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔

IRIB کے مطابق کشتیوں کو جنوبی ایران کے ساحلی پانیوں میں نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون کس نوعیت کے تھے اور حملے کے ذمہ دار کون تھے۔

نشریاتی ادارے نے لاپتا ماہی گیروں کی حتمی تعداد یا کسی ہلاکت کی بھی فوری تصدیق نہیں کی۔

یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے متعلق جاری فوجی محاذ آرائی کے دوران پیش آیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں