راولپنڈی (ایم این این)؛ پاکستان اور کویت نے اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو ایک مضبوط، دیرپا اور باہمی مفاد پر مبنی دفاعی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمعرات کو جنرل ہیڈکوارٹرز، راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
کویتی وزیر دفاع کے ہمراہ کویت کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد درج سعد الشریعان بھی موجود تھے۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک نے ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے اور برادر ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کویتی وفد نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عملی مہارت اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ان کی خدمات کو بھی سراہا۔
دریں اثنا، پاکستان اور کویت نے پروٹوکول معاہدہ 2026 پر دستخط کیے، جس کے ذریعے 2023 کے دفاعی تعاون کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں نمایاں توسیع کی جائے گی۔
یہ معاہدہ کویتی وزیر دفاع اور پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے درمیان راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔
معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کویت کو فوجی تربیت، استعداد کار میں اضافے، سرحدی انتظام اور دفاعی تعاون کے دیگر باہمی طور پر طے شدہ شعبوں میں معاونت فراہم کریں گی۔
یہ پیش رفت کویت کی جانب سے گزشتہ ماہ پاکستان کے ساتھ 2023 کے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی فوجی اور سفارتی رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان اور کویت کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون علاقائی امن و استحکام اور سلامتی کے شعبے میں مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی عکاسی کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیجی خطہ مسلسل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔


