محسن نقوی کا جیو نیوز رپورٹر کو 20 کروڑ ہرجانے کا نوٹس، نیشنل پریس کلب کا اظہارِ تشویش

0
1

اسلام آباد (MNN)؛ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی قیادت نے پمز اسپتال سانحے کی کوریج کے دوران مبینہ طور پر وزارت داخلہ کے ماتحت اسلام آباد انتظامیہ کی غفلت کا ذکر کرنے پر جیو نیوز کے رپورٹر ایاز اکبر یوسفزئی کو وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مبینہ طور پر 20 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکرٹری عابد عباسی اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین نے مشترکہ بیان میں صحافی کو قانونی نوٹس جاری کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا بنیادی فرض عوامی اہمیت کے معاملات کو حقائق کے ساتھ اجاگر کرنا اور متعلقہ حکام سے سوالات کرنا ہے۔

دوسری جانب قانونی نوٹس کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جیو نیوز پر نشر ہونے والے مواد میں مبینہ طور پر ایسے بیانات دیے گئے جن سے وزیر داخلہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

نوٹس میں مبینہ طور پر ایاز اکبر یوسفزئی سے متنازع بیانات واپس لینے، غیر مشروط معافی مانگنے اور متعلقہ مواد تمام پلیٹ فارمز سے فوری حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں صحافی کو مبینہ مطالبات پورے کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ مقررہ مدت میں عمل نہ ہونے کی صورت میں سول اور فوجداری قانونی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کے وکلا کے مطابق پمز سانحے سے متعلق بیان یا رپورٹنگ میں وزیر داخلہ کا مؤقف شامل نہیں کیا گیا جبکہ صحافی پر حقائق کی مناسب تصدیق اور ضروری احتیاط نہ برتنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

نیشنل پریس کلب کی قیادت نے تاہم کہا ہے کہ صحافیوں کو عوامی اہمیت کے معاملات رپورٹ کرنے اور متعلقہ اداروں سے سوالات کرنے کا آئینی اور پیشہ ورانہ حق حاصل ہے۔

این پی سی کے مطابق پمز میں پیش آنے والے المناک اور حساس واقعے کی رپورٹنگ صحافتی ذمہ داریوں کا حصہ ہے اور قانونی نوٹس یا دباؤ کے ذریعے صحافیوں کو ان کے فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکا جانا چاہیے۔

نیشنل پریس کلب نے کہا کہ اگر کسی خبر، رپورٹ یا بیان کے مندرجات پر حکومت، کسی ادارے یا فرد کو اعتراض ہے تو اس کا جواب حقائق، شواہد اور مؤثر وضاحت کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ صحافی کو قانونی کارروائی کی دھمکی دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔

این پی سی قیادت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ محسن نقوی خود صحافت سے وابستہ رہے ہیں اور میڈیا ادارے سے بھی منسلک ہیں، اس لیے انہیں صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور آزادیٔ صحافت کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔

نیشنل پریس کلب نے ایاز اکبر یوسفزئی کے خلاف جاری کیا گیا قانونی نوٹس واپس لینے، صحافیوں کو آزادانہ طور پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور آئین کے مطابق آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

این پی سی نے مزید کہا کہ صحافیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ صحافتی اداروں اور نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

یہ تنازع پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے کی رپورٹنگ اور اسلام آباد انتظامیہ، جو وزارت داخلہ کے انتظامی دائرہ اختیار میں آتی ہے، کے مبینہ ردعمل سے متعلق بیانات کے گرد گھومتا ہے۔ قانونی نوٹس وزیر داخلہ اور ان کے وکلا کا مؤقف ہے، جبکہ نیشنل پریس کلب نے صحافی کے عوامی اہمیت کے معاملے پر رپورٹنگ کے حق کا دفاع کیا ہے۔

واقعے نے ایک بار پھر سرکاری عہدیدار کے اپنی ساکھ کے تحفظ کے حق اور میڈیا کے عوامی اہمیت کے معاملات رپورٹ کرنے کے آئینی کردار کے درمیان توازن کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں