مظفرآباد (MNN)؛ مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ وہ جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔
افتخار گیلانی نے ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر ہونے والی تقریب میں حلف اٹھایا۔ اس سے قبل اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ڈالے گئے 44 ووٹوں میں سے 30 ووٹ ان کے حق میں آئے، جبکہ ان کے واحد مدِمقابل پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد عباسی نے 14 ووٹ حاصل کیے۔
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں افتخار گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ قیادت نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ اسے پورا کرنے کے لیے دن رات محنت کریں گے اور اس اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
افتخار گیلانی نے قانون ساز اسمبلی کے تمام ارکان سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کو دنیا کے لیے ایک مثالی خطہ بنانے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے اپنی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں روزگار، تعلیم اور صحت کو سرفہرست قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص اپنے خاندان کے لیے خوراک، بچوں کے بہتر مستقبل اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے روزگار حاصل کرنا چاہتا ہے، اس لیے ان تین شعبوں کو حکومتی پالیسی کا محور بنایا جائے گا۔
نئے وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت اور روشن مستقبل کی جانب آگے بڑھنے کے لیے مناسب مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے اسپتالوں اور طبی سہولیات میں بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اگر حکومت ان بنیادی مسائل کو کسی حد تک حل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو خطے میں موجود بہت سے معاشی اور سماجی مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
افتخار گیلانی نے امید ظاہر کی کہ قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت سینئر ارکان کے تجربے اور نوجوان ارکان کی توانائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آزاد کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔
افتخار گیلانی نے پیپلز پارٹی کے چوہدری انوارالحق کی جگہ لی ہے، جو نومبر 2025 میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی نشستیں 53 ہیں، تاہم اس وقت 46 ارکان ہیں کیونکہ پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی سات نشستوں پر انتخابات ہونا باقی ہیں۔ جمعہ کو ہونے والے انتخاب میں 44 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ اسپیکر نے ووٹ نہیں ڈالا اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر ایوان میں موجود نہیں تھے۔
شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ابتدا میں افتخار گیلانی کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم جمعہ کو اسمبلی اجلاس شروع ہونے پر راجہ فاروق حیدر، افتخار گیلانی کے ہمراہ ایوان میں پہنچے۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے افتخار گیلانی کی کامیابی کا اعلان کیا، جس پر ایوان کی گیلریوں سے تالیاں اور نعرے بلند ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے افتخار گیلانی کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی ترقی، خوشحالی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
پیپلز پارٹی کے چوہدری یاسین اپوزیشن لیڈر مقرر
دوسری جانب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سینئر پارلیمنٹیرین چوہدری محمد یاسین کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا۔
اسمبلی سیکرٹری امجد لطیف عباسی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے متعلقہ اسمبلی قواعد کے تحت ان کی تقرری کی منظوری دی۔
چوہدری محمد یاسین اس سے قبل 2016 سے 2021 تک بھی قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جمہوری اداروں اور پارلیمانی روایات کو مضبوط بنانے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عام انتخابات پر پیپلز پارٹی کو تحفظات ضرور ہیں، تاہم جمہوری جماعت ہونے کے ناتے وہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔
چوہدری یاسین نے کہا کہ عوامی مفاد میں حکومت کے اچھے اقدامات کی حمایت کی جائے گی، تاہم ایسے فیصلوں کی بھرپور مخالفت کی جائے گی جو آزاد کشمیر کے عوام کے مفادات کے خلاف ہوں۔
افتخار گیلانی کی نامزدگی
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے افتخار گیلانی کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرنے کا باضابطہ اعلان وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں آزاد کشمیر کے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے اجلاس کے بعد کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر پارٹی کے بعض سینئر علاقائی رہنماؤں، خصوصاً شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر نے ابتدائی طور پر اختلاف کیا تھا۔
افتخار گیلانی کے وزیراعظم بننے کی قیاس آرائیاں اس وقت تیز ہوگئی تھیں جب وہ 24 اگست کو مخصوص نشست پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات
آزاد کشمیر کے عام انتخابات، جو ابتدائی طور پر 27 جولائی کو ہونا تھے، خطے کے بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے باعث تین مراحل میں منعقد کیے گئے۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی، دوسرے میں 2 اگست اور تیسرے مرحلے میں 10 اگست کو پولنگ ہوئی۔
38 براہِ راست منتخب نشستوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 25 جبکہ پیپلز پارٹی نے 12 نشستیں حاصل کیں۔ عوامی دست و بازو پارٹی کے واحد منتخب رکن نے بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کر لیا۔
مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے چھ جبکہ پیپلز پارٹی نے دو نشستیں حاصل کیں۔
پیپلز پارٹی نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم یہ الزامات متنازع ہیں۔


