استنبول (MNN)؛ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو ہوگا۔
تینوں ممالک کے درمیان یہ اہم اجلاس استنبول میں 31 اگست 2026 کو منعقد ہوگا، جس میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کے امور پر تبادلہ خیال کرے گی۔
پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کریں گے۔
اجلاس میں ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف بھی شرکت کریں گے۔
حکام کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی شرکت ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے تاریخی برادرانہ تعلقات اور خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے عزم کی عکاس ہے۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت اور مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں ہوگا۔ ترکیہ کی جانب سے وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف ترک جنرل اسٹاف جنرل سلچک بایراکتار اوغلو اجلاس میں شریک ہوں گے۔
سعودی عرب کی جانب سے بھی وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور اعلیٰ عسکری حکام شرکت کریں گے۔
اسحاق ڈار بھی استنبول پہنچ گئے
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار برطانیہ کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اتوار کو استنبول پہنچ گئے۔
استنبول ایئرپورٹ پر ان کا استقبال ترک ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے انتظامیہ بریگیڈیئر جنرل شینول وارول، ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارت خارجہ کے سفیر جہاد ارگینائے اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
استنبول پہنچنے کے بعد اسحاق ڈار نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار پر حاضری دی اور پاکستان اور اس کے عوام کی امن و خوشحالی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے دعا کی۔
دفتر خارجہ نے اسحاق ڈار کی استنبول میں دیگر مصروفیات کی تفصیلات جاری نہیں کیں اور صرف بتایا کہ ان کے شیڈول میں سرکاری ملاقاتیں اور سرگرمیاں شامل ہیں۔
آر-4 اجلاس بھی اہمیت کا حامل
اسحاق ڈار کا استنبول دورہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل ریجنل-4 (R-4) گروپ کے اجلاس کے حوالے سے بھی اہم ہے۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اسحاق ڈار کو آر-4 اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ یہ فورم علاقائی سلامتی، سفارتی رابطہ کاری اور خطے میں استحکام کے امور پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
آر-4 گروپ مارچ میں اس وقت سامنے آیا تھا جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششیں جاری تھیں۔
اس گروپ کا تازہ اجلاس 5 اگست کو عمان میں ہوا تھا، جہاں چاروں ممالک نے علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مشاورت اور قریبی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
جون میں قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔ آر-4 کا پہلا اور دوسرا اجلاس مارچ میں بالترتیب ریاض اور اسلام آباد میں ہوا تھا۔
اسحاق ڈار کا برطانیہ کا دورہ مکمل
استنبول پہنچنے سے قبل اسحاق ڈار نے برطانیہ کا سرکاری دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ، وزیر مملکت برائے پاکستان اسٹیفن ڈاؤٹی، قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز اور دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی آیورکور بوچوے سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں کیں۔
اسحاق ڈار نے برطانوی پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد ارکان سے بھی ملاقات کی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا۔
استنبول میں ہونے والا اجلاس تینوں ممالک کے درمیان نئے دفاعی شراکت داری کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے، اجتماعی سلامتی، اسٹریٹجک تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


