سعودی سرحد کے قریب یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں میں جھڑپیں

0
2

دوحہ/تہران/اسلام آباد (MNN)؛ یمن میں لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حامی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان سعودی سرحد کے قریب جھڑپیں ہوئی ہیں، جبکہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ماریب کے علاقے میں سعودی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔

اے ایف پی کی جانب سے جاری فوٹیج میں یمنی حکومتی فورسز کو بکتر بند گاڑیوں اور فوجی ٹرکوں کے ذریعے صحرائی علاقے میں پیش قدمی کرتے دکھایا گیا، جبکہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

حوثیوں نے بھی الجوف کے علاقے میں لڑائی کی ویڈیوز جاری کیں اور الگ سے سعودی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم رائٹرز کے مطابق طیارہ گرائے جانے کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

یمنی حکومت کی پانچویں بریگیڈ کے آپریشنز کمانڈر ولید المہاجری نے اے ایف پی کے ساتھ موجود صحافی کو بتایا کہ حکومتی فورسز اللّبانت محاذ پر حوثی ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حوثی جنگجو مختلف محاذوں سے پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔

اے ایف پی فوٹیج میں حکومتی فورسز کو دور موجود اہداف پر بھاری مشین گنوں، توپ خانے اور راکٹ لانچر سے فائرنگ کرتے دیکھا گیا۔ فوٹیج میں حوثیوں کے جنگجوؤں کی لاشیں اور دفاعی مورچے بھی دکھائے گئے جنہیں حکومتی فورسز نے حوثیوں کے چھوڑے ہوئے ٹھکانے قرار دیا۔

ایک فوجی اہلکار ابو میثاق نے دعویٰ کیا کہ الماسریہ پہاڑی اور اللّبانت کیمپ کو قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ پیش قدمی التباب السود کی جانب جاری ہے۔

حوثیوں کا جوابی دعویٰ

حوثیوں کی جانب سے جاری ویڈیو میں جنگجوؤں کو صحرائی علاقے میں پک اپ گاڑیوں پر نقل و حرکت کرتے دکھایا گیا، جبکہ ایک منظر میں ایک آگے بڑھتی ہوئی گاڑی پر فائرنگ بھی دکھائی گئی۔

حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ وہ مخالف فورسز کا راستہ کاٹنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔

ایک اور ویڈیو میں نائٹ وژن فوٹیج دکھائی گئی جس کے بارے میں حوثیوں کا کہنا تھا کہ اس میں ایک میزائل یا گولہ ایک لڑاکا طیارے کو نشانہ بناتا دکھائی دے رہا ہے۔ بعد ازاں مبینہ طور پر تباہ شدہ طیارے کا ملبہ دکھایا گیا جس کی دم پر سعودی پرچم نظر آتا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ یمنی فورسز نے ماریب کے فضائی حدود میں سعودی ایف-15 طیارہ مقامی طور پر تیار کردہ میزائل سے مار گرایا۔

حوثیوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سعودی ایف-15 اور ٹائفون طیاروں کو ماریب سے واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم طیارہ گرائے جانے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یمن میں دوبارہ شدید لڑائی

یہ تازہ جھڑپیں یمن میں کئی برس کی نسبتاً کم شدت والی صورتحال کے بعد ہونے والی بڑی فوجی کشیدگی کا حصہ ہیں۔

حالیہ رپورٹوں کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے اہم تزویراتی علاقے میں نمایاں پیش قدمی کی ہے۔

حوثی طویل عرصے سے شمالی یمن کے بڑے حصے، بشمول دارالحکومت صنعاء، پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

سعودی عرب اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حامی فورسز نے حوثیوں کی پیش قدمی کے جواب میں فوجی کارروائیاں تیز کردی ہیں جبکہ سعودی فضائی حملوں میں حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مکہ کے قریب حوثی ڈرون مار گرانے کا سعودی دعویٰ

دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثیوں کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون روک کر تباہ کردیا۔

اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو منگل کی شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل روک لیا گیا اور اس کا ملبہ شہر کے جنوب میں گرا۔

انہوں نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سمیت مقدس مقامات اور زائرین کی سلامتی کو “ریڈ لائن” قرار دیا۔

سعودی حکام نے اس واقعے کو مکہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ یا کسی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔

حوثی عہدیدار حزام الاسد نے سعودی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مکہ کو نشانہ بنانے سے متعلق دعوے غلط ہیں۔

او آئی سی کی مذمت

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے میں حوثیوں کے مبینہ حملوں کی مذمت کی ہے۔

او آئی سی نے کہا کہ ایسے حملے شہریوں میں خوف پیدا کرتے اور اسلامی مقدس مقامات اور مساجد کی حرمت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے مطابق حوثیوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط، ابہا اور طائف سمیت علاقوں میں حملوں کی اطلاعات دی ہیں، جبکہ حوثیوں نے سعودی فوجی اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

یمن کی جنگ دوبارہ شدت اختیار کرگئی

یمن میں 2014 سے جنگ جاری ہے جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء اور ملک کے بڑے شمالی علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔

2022 کے بعد جنگ کی شدت میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ حوثی پیش قدمی اور سعودی فوجی ردعمل کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی ہے۔

تازہ کشیدگی کے باعث انسانی صورتحال بھی مزید تشویشناک ہوگئی ہے اور ہزاروں یمنی شہری دوبارہ نقل مکانی کرکے جنوبی علاقوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں