شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جہازوں کے تصادم پر پاکستان، بھارت کے ایک دوسرے سے احتجاج

0
1

اسلام آباد/نئی دہلی (MNN)؛ پاکستان اور بھارت کے درمیان شمالی بحیرۂ عرب میں 15 ستمبر کو دونوں ممالک کے بحری جہازوں کے تصادم کے بعد سفارتی سطح پر احتجاج کا تبادلہ ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے واقعے کے مقام اور اس کی وجوہات سے متعلق مختلف مؤقف اختیار کیے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے بدھ کو اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کرکے 15 ستمبر کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں بھارتی بحریہ کے جہاز کی مبینہ کارروائی پر شدید احتجاج کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاک بحریہ اپنی دو سالہ بحری مشق سی اسپارک-26 (SEASPARK-26) میں مصروف تھی۔ پاکستان کے مطابق بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب “جارحانہ انداز میں” اپنی سمت تبدیل کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کا آپس میں رابطہ ہوا۔

اسلام آباد نے واقعے کو بین الاقوامی قانون اور 1991 کے پاکستان، بھارت معاہدے برائے فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی سرگرمیوں کی پیشگی اطلاع کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ایسے واقعات خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

پاکستان نے بھارتی سفارتکار سے کہا کہ وہ نئی دہلی تک اسلام آباد کا شدید احتجاج پہنچائیں اور بھارت پر زور دیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ایسے دوطرفہ معاہدوں کی پابندی کرے جن کا مقصد سمندر میں ممکنہ حادثات اور غلط فہمیوں کو روکنا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی میں اس کے ناظم الامور کی جانب سے بھارتی وزارت خارجہ کو بھی اسی نوعیت کا احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر ایسی کارروائیوں سے گریز کے لیے زور دے جن سے اسلام آباد کے مطابق جنوبی ایشیا میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔

بھارت کا مختلف مؤقف

دوسری جانب بھارت نے نئی دہلی میں پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کرکے بحری تصادم پر احتجاج کیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا، نہ کہ پاکستان کے EEZ میں۔ بھارتی حکام کے مطابق پاکستانی بحری جہاز PNS Hunain تیز رفتاری سے بھارتی بحری جنگی جہاز کے قریب آیا اور غیر محفوظ و غیر پیشہ ورانہ انداز میں مشقیں کرتے ہوئے تصادم کا سبب بنا۔

بھارت نے کہا کہ یہ کارروائی 1991 کے دوطرفہ معاہدے کے آرٹیکل 10 کے منافی تھی، جس کے تحت دونوں ممالک کے بحری جہازوں اور آبدوزوں کو بین الاقوامی پانیوں میں ایک دوسرے سے کم از کم تین سمندری میل کا فاصلہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے پاکستانی بحری جہاز کی شناخت PNS Hunain کے طور پر کی ہے۔ نقصان کی نوعیت سے متعلق رپورٹس میں فرق پایا جاتا ہے؛ بعض بھارتی رپورٹس میں کہا گیا کہ پاکستانی جہاز کو نقصان پہنچا اور وہ واپس بندرگاہ چلا گیا، جبکہ بھارتی سرکاری مؤقف میں کہا گیا کہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔

بھارت نے اسلام آباد میں اپنے ناظم الامور کو بھی پاکستان کی وزارت خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی ہے۔

واقعے کے مقام پر دونوں ممالک کا اختلاف

اس واقعے میں بنیادی اختلاف مقام اور حالات سے متعلق ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ تصادم اس کے EEZ میں بحری مشقوں کے دوران ہوا، جبکہ بھارت کے مطابق واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی دونوں ممالک کے متضاد مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے یہ اختلاف رپورٹ کیا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق تصادم شمالی بحیرۂ عرب کے بین الاقوامی پانیوں میں ہوا اور پاکستانی جہاز کی شناخت PNS Hunain کے طور پر کی گئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں