عمران خان کی بہنیں ڈاکٹر عظمیٰ خان , نورین نیازی اور علیمہ خان 30 روز کے لیے نظر بند، احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی

0
2

لاہور (MNN)؛ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960 کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کی کال سے قبل کی گئی ہے۔

دونوں بہنوں کی نظر بندی ایک روز بعد عمل میں آئی جب ان کی بہن علیمہ خان کو بھی لاہور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز کے احکامات کے تحت اسی نوعیت کی کارروائی میں حراست میں لیا گیا۔

20 ستمبر کو جاری کیے گئے نظر بندی کے حکم کے مطابق لاہور انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی سرگرمیاں “عوامی تحفظ اور امن و امان کے لیے نقصان دہ” ہیں۔ حکم میں دونوں کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکم نامے میں الزام عائد کیا گیا کہ دونوں خواتین 9 مئی کے احتجاج میں ملوث رہی ہیں اور انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کو سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔

انتظامیہ کے مطابق دونوں دوبارہ سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کر رہی تھیں اور ایسے نعرے لگا رہی تھیں جن سے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے اور عوام کو اشتعال دلائے جانے کا خدشہ تھا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں، جن میں ریس کورس تھانے کا مقدمہ نمبر 96/23 بھی شامل ہے، جبکہ انہیں عوامی امن و سکون کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔

لاہور ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اتوار کو ہونے والے اجلاس میں پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لیا گیا اور شرکاء نے انہیں منظور کیا، جس کے بعد دونوں کی نظر بندی کا فیصلہ کیا گیا۔

حکم نامے کے مطابق ڈپٹی کمشنر اس نتیجے پر پہنچے کہ عظمیٰ اور نورین کی کسی بھی عوامی مقام پر موجودگی سے عوامی تحفظ کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا امکان ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے عمران خان کی دونوں بہنوں کو ان کے بچوں اور علیمہ خان کے بیٹوں سمیت حراست میں لے لیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے وکیل اویس یونس چوہدری نے بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عظمیٰ اور نورین کو پہلے ان کے گھروں تک محدود رکھا گیا، تاہم پیر کی صبح انہیں وہاں سے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اختیارات کا مبینہ ناجائز استعمال، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا۔

عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے بھی سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا کہ ان کی خالاؤں اور کزنز کو حکام نے گھروں سے لے جاکر گاڑیوں میں منتقل کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کی وجوہات اور ان کے موجودہ مقام کے بارے میں اہل خانہ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مزید محاذ آرائی نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کی گرفتاریاں کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔

علیمہ خان کی نظر بندی

عمران خان کی بہن علیمہ خان کو بھی اتوار کو لاہور ڈپٹی کمشنر کے حکم پر اسی نوعیت کے MPO کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔ حکم میں محمد عامر نامی شخص کا نام بھی شامل تھا۔

علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد ان کی بہن نورین نیازی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ کو ہفتے کے روز گھر سے نکلنے کے بعد ڈرائیور سمیت حراست میں لیا گیا۔ ان کے وکیل ایڈووکیٹ مدثر عمر نے اس وقت کہا تھا کہ انہیں گرفتاری کی باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی۔

بعد ازاں پولیس ذرائع نے تصدیق کی کہ علیمہ خان کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

تینوں بہنوں کی نظر بندی کے بعد پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے لاہور میں پارٹی امور چلانے کے لیے ایک تنظیمی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ارکان پارلیمنٹ سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک ظہیر عباس کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ہارون اکبر، اصغر گجر، اویس انجم، یاسر گیلانی اور عامر قریشی کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں

عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف رپورٹ ہونے والی گرفتاریوں اور انسدادی نظر بندی کے احکامات کے سلسلے کی کڑی ہے۔

اتوار کو ساہیوال پولیس نے مبینہ طور پر سابق میونسپل کارپوریشن میئر اور سابق پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر اسد خان بلوچ اور پی ٹی آئی ساہیوال سٹی کے صدر محمد شاہد چوہان کو گرفتار کیا۔

پی ٹی آئی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ارکان قومی اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل، احسان جمال خان اور میاں غوث کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے پنجاب میں درجنوں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف MPO کے تحت حفاظتی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے ہیں، جن میں ایک پنجاب نوٹیفکیشن کے تحت 31 افراد جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مزید 14 افراد شامل ہیں۔

اسلام آباد سے بھی اسی نوعیت کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو احتجاج کے موقع پر مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

حکومت نے مارچ روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت اسلام آباد میں عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں