مبینہ کوکین کوئین پن انمول عرف پنکی کے ملک گیر منشیات نیٹ ورک کی تفصیلات سامنے آگئیں

0
16

کراچی (ایم این این): کراچی پولیس نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے ملک گیر منشیات نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے اسے “چالاک اور انتہائی ہوشیار” قرار دیا ہے۔

ڈی آئی جی ساوتھ سید اسد رضا نے کہا کہ ملزمہ ملک بھر میں پینتیس رائیڈرز کے ذریعے کوکین سپلائی کرتی تھی اور گرفتاری سے بچنے کے لیے کسی کو مستقل ملازم نہیں رکھتی تھی۔

پولیس کے مطابق انمول نے لاہور میں اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے علیحدگی کے بعد اپنا الگ منشیات نیٹ ورک قائم کیا۔

ڈی آئی جی اسد رضا نے بتایا کہ کراچی کے کلفٹن اور ڈیفنس علاقوں سے اس نیٹ ورک سے وابستہ متعدد رائیڈرز گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق انمول گرفتار رائیڈرز کے مقدمات کے لیے وکلا کی خدمات حاصل کرتی تھی اور مختلف پولیس افسران سے بھی رابطے میں رہتی تھی۔

تحقیقات کے دوران انمول نے بتایا کہ وہ بچپن سے ماڈل بننا چاہتی تھی لیکن خاندان اس کے خلاف تھا، جس کے بعد وہ 2008 میں گھر سے رقم اور زیورات لے کر کراچی سے لاہور منتقل ہوگئی۔

پولیس کے مطابق فلمی دنیا میں کام کی تلاش کے دوران اس کی ملاقات ایک فلم پروڈیوسر سے ہوئی جس نے اسے مختلف تقریبات میں متعارف کروایا، جہاں اس کی ملاقات رانا ناصر سے ہوئی۔

چند ماہ بعد اس نے چودہ برس کی عمر میں رانا ناصر سے شادی کر لی اور بعد میں اسے معلوم ہوا کہ اس کا شوہر بین الاقوامی منشیات کاروبار سے وابستہ ہے۔

پولیس کے مطابق رانا ناصر نے اسے منشیات کی ترسیل، رقم وصولی، موبائل سم اور غیر ملکی بینک اکاؤنٹ فراہم کیے، جنہیں منشیات کے کاروبار میں استعمال کیا جاتا تھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق لاہور میں مقیم بعض غیر ملکی، خصوصاً نائجیرین شہری، کپڑے کے کاروبار کی آڑ میں منشیات فروشی میں ملوث تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ انمول نے کوکین میں کیمیکل ملا کر اس کی مقدار بڑھانے کا طریقہ سیکھا اور بعد میں یہی طریقہ کراچی میں اپنے نیٹ ورک میں استعمال کیا۔

پولیس کے مطابق اس نے واٹس ایپ کے ذریعے آرڈر وصول کرنے، بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرانے اور مختلف شہروں میں منشیات پہنچانے کے لیے مکمل آن لائن نظام قائم کر رکھا تھا۔

ڈی آئی جی اسد رضا نے دعویٰ کیا کہ انمول نے اپنی تیار کردہ “برانڈ” کی کوکین چالیس ہزار روپے فی گرام تک فروخت کی جبکہ کم معیار کی کوکین بیس سے تیس ہزار روپے فی گرام میں فروخت ہوتی تھی۔

پولیس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انمول کے تعلقات ریٹائرڈ پولیس افسر رانا اکرم سے تھے، جس کے نام پر اس نے جائیدادیں خریدیں اور اسے بھاری رقوم بھی فراہم کیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق رانا اکرم جنوری 2026 میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انمول کے خلاف 2018 سے 2026 تک اٹھائیس مقدمات درج کیے گئے جبکہ کراچی اور گوادر میں اس کی دو جائیدادیں ضبط اور دو بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔

تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، انسدادِ منشیات فورس اور نادرا بھی شامل ہیں جبکہ منی لانڈرنگ اور ڈیجیٹل شواہد کی مزید جانچ جاری ہے۔

کراچی (ایم این این): کراچی پولیس نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے ملک گیر منشیات نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے اسے “چالاک اور انتہائی ہوشیار” قرار دیا ہے۔

ڈی آئی جی ساوتھ سید اسد رضا نے کہا کہ ملزمہ ملک بھر میں پینتیس رائیڈرز کے ذریعے کوکین سپلائی کرتی تھی اور گرفتاری سے بچنے کے لیے کسی کو مستقل ملازم نہیں رکھتی تھی۔

پولیس کے مطابق انمول نے لاہور میں اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے علیحدگی کے بعد اپنا الگ منشیات نیٹ ورک قائم کیا۔

ڈی آئی جی اسد رضا نے بتایا کہ کراچی کے کلفٹن اور ڈیفنس علاقوں سے اس نیٹ ورک سے وابستہ متعدد رائیڈرز گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق انمول گرفتار رائیڈرز کے مقدمات کے لیے وکلا کی خدمات حاصل کرتی تھی اور مختلف پولیس افسران سے بھی رابطے میں رہتی تھی۔

تحقیقات کے دوران انمول نے بتایا کہ وہ بچپن سے ماڈل بننا چاہتی تھی لیکن خاندان اس کے خلاف تھا، جس کے بعد وہ 2008 میں گھر سے رقم اور زیورات لے کر کراچی سے لاہور منتقل ہوگئی۔

پولیس کے مطابق فلمی دنیا میں کام کی تلاش کے دوران اس کی ملاقات ایک فلم پروڈیوسر سے ہوئی جس نے اسے مختلف تقریبات میں متعارف کروایا، جہاں اس کی ملاقات رانا ناصر سے ہوئی۔

چند ماہ بعد اس نے چودہ برس کی عمر میں رانا ناصر سے شادی کر لی اور بعد میں اسے معلوم ہوا کہ اس کا شوہر بین الاقوامی منشیات کاروبار سے وابستہ ہے۔

پولیس کے مطابق رانا ناصر نے اسے منشیات کی ترسیل، رقم وصولی، موبائل سم اور غیر ملکی بینک اکاؤنٹ فراہم کیے، جنہیں منشیات کے کاروبار میں استعمال کیا جاتا تھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق لاہور میں مقیم بعض غیر ملکی، خصوصاً نائجیرین شہری، کپڑے کے کاروبار کی آڑ میں منشیات فروشی میں ملوث تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ انمول نے کوکین میں کیمیکل ملا کر اس کی مقدار بڑھانے کا طریقہ سیکھا اور بعد میں یہی طریقہ کراچی میں اپنے نیٹ ورک میں استعمال کیا۔

پولیس کے مطابق اس نے واٹس ایپ کے ذریعے آرڈر وصول کرنے، بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرانے اور مختلف شہروں میں منشیات پہنچانے کے لیے مکمل آن لائن نظام قائم کر رکھا تھا۔

ڈی آئی جی اسد رضا نے دعویٰ کیا کہ انمول نے اپنی تیار کردہ “برانڈ” کی کوکین چالیس ہزار روپے فی گرام تک فروخت کی جبکہ کم معیار کی کوکین بیس سے تیس ہزار روپے فی گرام میں فروخت ہوتی تھی۔

پولیس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انمول کے تعلقات ریٹائرڈ پولیس افسر رانا اکرم سے تھے، جس کے نام پر اس نے جائیدادیں خریدیں اور اسے بھاری رقوم بھی فراہم کیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق رانا اکرم جنوری 2026 میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انمول کے خلاف 2018 سے 2026 تک اٹھائیس مقدمات درج کیے گئے جبکہ کراچی اور گوادر میں اس کی دو جائیدادیں ضبط اور دو بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔

تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، انسدادِ منشیات فورس اور نادرا بھی شامل ہیں جبکہ منی لانڈرنگ اور ڈیجیٹل شواہد کی مزید جانچ جاری ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں