ٹرمپ کا ایران کے ساتھ امن معاہدے کا فریم ورک تقریباً مکمل ہونے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

0
14

واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مفاہمتی یادداشت تقریباً طے پا چکی ہے اور جلد ہی اس کی تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ معاہدے کے آخری نکات اور تفصیلات پر بات چیت جاری ہے تاہم اہم پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے اہم نکات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے، جو عالمی تیل تجارت کے لیے نہایت اہم بحری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے مختلف مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی رابطے کیے، جبکہ نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو کو انہوں نے مثبت قرار دیا۔

سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کسی معاہدے کے مزید قریب آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور ممکنہ معاہدے میں ایران کے افزودہ یورینیم کے مسئلے کو اطمینان بخش انداز میں حل کیا جائے گا۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف 13 اپریل سے جاری بحری ناکہ بندی کے دوران ایک سو تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کیے جانے والے ابتدائی فریم ورک میں جوہری معاملہ شامل نہیں۔

انہوں نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اس مرحلے پر ایران نے جنگ کے خاتمے، خصوصاً لبنان کی صورتحال، کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جوہری معاملے پر بعد میں الگ بات چیت ہوگی۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مجوزہ چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات کو بھی شامل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان قربت کی جانب پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔

بقائی نے مزید بتایا کہ آئندہ تیس سے ساٹھ روز میں ان نکات کی تفصیلات پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ حتمی معاہدہ طے پا سکے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی امید ظاہر کی کہ آنے والے چند روز میں معاہدے سے متعلق مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

انہوں نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جلد معاہدہ قبول کر سکتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی انتظامی طریقہ کار کا فیصلہ ایران، عمان اور اس بحری گزرگاہ سے منسلک دیگر ممالک کے درمیان ہونا چاہیے اور امریکا کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان بدستور اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں