بھارتی نوجوانوں کے مسائل اجاگر کرنے والا وائرل سوشل میڈیا اکاؤنٹ دباؤ کا شکار، بانی کا ہیکنگ اور دھمکیوں کا دعویٰ

0
13

نئی دہلی (ایم این این): بھارت میں نوجوانوں کے مسائل اجاگر کرنے والا ایک وائرل سوشل میڈیا اکاؤنٹ تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے کے بعد دباؤ کا شکار ہوگیا ہے، جبکہ اس کے بانی نے ہیکنگ، اکاؤنٹس محدود کیے جانے اور اہل خانہ کو دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔

طنزیہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ “کاکروچ جنتا پارٹی” نے چند ہی دنوں میں انسٹاگرام پر بائیس ملین سے زائد فالوورز حاصل کر لیے اور بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور حکومتی معاملات سے متعلق نوجوانوں کی آواز بن کر سامنے آیا۔

اس کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا کہ گروپ کی ویب سائٹ بند کر دی گئی، ایکس پر موجود اکاؤنٹ بھارت میں روک دیا گیا، انسٹاگرام اکاؤنٹ متاثر ہوا جبکہ ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔

بھارتی حکومت نے ویب سائٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کسی کارروائی کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی، جبکہ وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

اکاؤنٹ کی غیر معمولی مقبولیت نے بھارت میں نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کو نمایاں کیا ہے، خاص طور پر بے روزگاری، امتحانی تنازعات اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے، جبکہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی حالیہ انتخابات میں کامیابیاں حاصل کر چکی ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے ایکس اکاؤنٹ کی مبینہ بندش پر تنقید کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا۔

وفاقی وزیر کیرن رجیجو نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ان لوگوں پر افسوس ہے جو ملک سے باہر سے سوشل میڈیا حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس پر ابھیجیت دپکے نے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چورانوے فیصد سے زیادہ فالوورز بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی نوجوانوں کو اس طرح سیاسی طور پر کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سی ووٹر کے ایک سروے کے مطابق اکاؤنٹ پر اٹھائے گئے مسائل بھارتی نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر گونج رکھتے ہیں۔ اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر کے ساٹھ فیصد سے زائد افراد نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشانی محسوس کرتے ہیں۔

سروے کے مطابق بے روزگاری اور امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے کے واقعات نوجوانوں کی بڑی تشویش ہیں، جن میں حالیہ میڈیکل داخلہ امتحان بھی شامل ہے جس سے تقریباً تئیس لاکھ امیدوار متاثر ہوئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً چودہ فیصد ہے، جو مجموعی قومی شرح بے روزگاری سے کہیں زیادہ ہے۔

سروے میں شامل اکثریت نے یہ بھی کہا کہ ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سرکاری سطح پر بند کرنا درست نہیں ہوگا۔

بھارتی وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے کہا کہ اگر یہ آن لائن تحریک سوشل میڈیا سے نکل کر عوامی سطح پر منظم ہوتی ہے تو اس کا اثر مزید بڑھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں