لوہانسک / ماسکو (صدائے روس) – 22 مئی کو یوکرین کی جانب سے روس میں شامل ہونے والے لوہانسک علاقے کے شہر اسٹاروبیلسک میں واقع ایک کالج، طلبہ ہاسٹلز اور قریبی عمارتوں پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں روسی حکام کے مطابق 21 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 35 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے۔ حملے میں مجموعی طور پر پانچ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں کالج، طلبہ کے ہاسٹلز اور ایک شاپنگ ایریا شامل تھا۔
حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ کئی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک ملبے تلے دبے زخمیوں اور متاثرین کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں۔ عمارتوں کی دیواریں ٹوٹ چکی تھیں، کمروں کی کھڑکیاں تباہ ہوچکی تھیں جبکہ کئی مقامات پر اب بھی دھواں اور تباہی کے آثار موجود تھے۔ مغربی اور امریکی میڈیا کے بعض حلقوں نے اس واقعے کو “روسی پروپیگنڈا” اور “فیک نیوز” قرار دینے کی کوشش کی، تاہم روسی حکام نے عالمی میڈیا کو زمینی حقائق دکھانے کے لیے ماسکو سے 65 غیر ملکی صحافیوں پر مشتمل ایک وفد کو جائے وقوعہ کا دورہ کروایا۔
وفد کو تباہ شدہ عمارات، متاثرہ ہاسٹل، جلی ہوئی دیواریں، بکھری کتابیں، تباہ شدہ کمروں اور حملے کے باقی ماندہ شواہد دکھائے گئے۔ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مقامی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے بعض ٹکڑے مغربی ساختہ تھے۔
صدائے روس کے پاکستانی تجزیہ نگار اور چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے بتایا ہے کہ جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد وہاں کی صورتحال انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی تھی۔ ان کے مطابق جلے ہوئے بستروں، خاموش راہداریوں، ٹوٹے ہوئے شیشوں اور بکھری ہوئی کتابوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ یہاں چند لمحے پہلے تک زندگی موجود تھی، لیکن اب ہر طرف خوف، خاموشی اور غم کا راج ہے۔


