امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی شامل، ٹرمپ نے حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا

0
9

تہران/واشنگٹن (ایم این این): ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کو 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے کی شق شامل ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک “غیر سرکاری” مسودے میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کو 60 روز کے اندر اپنے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک مکمل رسائی دینے کا وعدہ کیا ہے، تاکہ یہ رقم ایران کی منتخب بینکاری ذرائع کے ذریعے منتقل ہو سکے اور بغیر پابندی استعمال کی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ رقم ایران اپنی مرضی کے بینکوں میں منتقل کر سکے گا اور اس کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

یہ دعویٰ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ممکنہ امریکا ایران معاہدے کی تفصیلات پر دونوں جانب سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو مجوزہ معاہدے سے متعلق اپنے مؤقف میں کہا تھا کہ “مزید اطلاع تک کوئی رقم منتقل نہیں کی جائے گی”، تاہم ایرانی ذرائع نے اس دعوے کی تردید کی۔

اس سے قبل بھی ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی اسی نوعیت کی ایک رپورٹ کو وائٹ ہاؤس نے “من گھڑت” قرار دیا تھا۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔

ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو ایرانی ضوابط پر عمل کرنا ہوگا، بصورت دیگر نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مکمل اختیار کے ساتھ سنبھال رہی ہیں، اور تمام بحری جہازوں کو مقررہ راستوں سے گزرنے اور ایرانی انقلابی گارڈز کی بحریہ سے اجازت لینا ہوگی۔

ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 20 جہاز ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں آبنائے ہرمز سے گزرے۔

ادھر واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ایران سے ممکنہ معاہدے پر غور کیا گیا، تاہم اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔

امریکی حکام کے مطابق تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں معاہدے کے مختلف نکات پر تبادلہ خیال ہوا لیکن صدر ٹرمپ نے حتمی منظوری مؤخر کر دی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ صدر ٹرمپ صرف اسی صورت میں معاہدہ کریں گے جب وہ امریکا کے مفاد میں ہو اور ان کی تمام شرائط پوری کرے۔

امریکا اب بھی ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے، یورینیم افزودگی کی آئندہ سرگرمیوں اور نگرانی کے نظام جیسے معاملات پر سخت مؤقف رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ ابھی کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی رابطے برقرار ہیں اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

اسی دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کو امریکا کا “حقیقی دوست” قرار دیا۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جاری امن کوششوں میں کردار کو “نمایاں” قرار دیا۔

تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہو رہی ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جبکہ علاقائی امن، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ایران کا جوہری پروگرام بدستور مذاکرات کے مرکز میں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں