پاکستان کے استحکام کے لیے مؤثر گورننس ناگزیر، انتظامی اصلاحات پر آئینی بحث کی ضرورت

0
1

راولپنڈی (ایم این این): پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے مؤثر گورننس بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر ملک کے کسی بھی بڑے مسئلے کا حل ممکن نہیں۔

راولپنڈی میں ملکی سلامتی، خصوصاً بلوچستان کی صورتحال پر تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے مضبوط گورننس اور سیاسی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس کے قیام سمیت گورننس کے ڈھانچے پر سنجیدہ آئینی اور سیاسی بحث ہونی چاہیے، تاہم ہر فیصلہ عوام کی مرضی، آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں سے 31 ہزار سے زائد بلوچستان میں انجام دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ رواں برس اب تک 3 ہزار 145 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 1 ہزار 971 خیبرپختونخوا جبکہ 1 ہزار 148 بلوچستان میں پیش آئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق رواں سال اب تک 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ 10 دہشت گرد مارے جا رہے ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز روزانہ انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں رواں برس 819 پاکستانی شہید ہوئے جن میں 303 فوجی اہلکار، 194 پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں۔

بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صوبے کو درپیش بنیادی مسائل میں کمزور گورننس، سرداری نظام، اشرافیہ کے مفادات، اسمگلنگ اور بیرونی مداخلت شامل ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں ملوث ہے جبکہ افغانستان سے بھی دہشت گردوں کو معاونت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن العزم اور آپریشن غضب للحق جاری ہیں جبکہ بلوچستان میں ایف سی ویسٹ کے قیام، پولیس کی استعداد میں اضافے، ترقیاتی منصوبوں اور سماجی و معاشی اقدامات کے ذریعے امن و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اب تک 26 لاکھ افغان باشندوں کو پاکستان سے واپس بھیجا جا چکا ہے جن میں 6 لاکھ افراد رواں سال واپس گئے۔

آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا”۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی اور عوامی مطالبات آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر حل ہونے چاہییں اور ریاست ہی طاقت کے استعمال کا آئینی اختیار رکھتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں