بیجنگ معاہدے کے بعد: چین پاکستان تعلقات کے پائیدار مستقبل کی طویل راہ

0
10

تحریر: اشتیاق احمد

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ایسے وقت میں چین کا اہم دورہ مکمل کیا ہے جب خطہ غیر معمولی بے یقینی سے دوچار ہے۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہوا، تاہم اس کی اہمیت محض تقریباتی نوعیت تک محدود نہیں تھی۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران تنازع، خلیجی خطے میں کشیدگی، عالمی معاشی غیر یقینی اور ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صف بندیاں دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

اسی تناظر میں صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو خاص تزویراتی اہمیت حاصل رہی۔ ان ملاقاتوں نے نہ صرف چین پاکستان شراکت داری کی گہرائی کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ دونوں ممالک بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی ماحول کے مطابق اپنے تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ملاقاتوں کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ جامع اور نہایت اہم تھا۔ اس میں ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کو تیز کرنے، تجارت، صنعت، زراعت، صاف توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تبدیلی اور سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ خطے میں بڑھتی بے یقینی کے تناظر میں تزویراتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

تاہم اس اعلامیے کی اصل اہمیت صرف سفارتی زبان تک محدود نہیں بلکہ یہ چین پاکستان تعلقات کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تقریباً ایک دہائی تک چین پاکستان اقتصادی راہداری کو زیادہ تر شاہراہوں، بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے سے جوڑا جاتا رہا۔ ان منصوبوں نے پاکستان کی معیشت کے کئی اہم مسائل حل کیے اور خطے میں چین کی موجودگی کو بھی مضبوط کیا۔ تاہم پاکستان میں اس پر یہ تنقید بھی ہوتی رہی کہ تعلقات کا محور زیادہ تر انفراسٹرکچر سرمایہ کاری رہا، جبکہ صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع اس رفتار سے پیدا نہ ہو سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

بیجنگ میں ہونے والی حالیہ بات چیت میں ان خدشات کا واضح ادراک دکھائی دیا۔ اس مرتبہ توجہ صنعتی تعاون، مشترکہ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، مصنوعی ذہانت، بیٹری اسٹوریج اور برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری پر مرکوز رہی۔ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں ایسے شعبوں میں طے پائیں جنہیں سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں کم توجہ ملی تھی۔

یہ تبدیلی دونوں ممالک کی بدلتی ضروریات کی عکاس ہے۔ چین اپنی صنعتی معیشت کے بعض شعبوں کی تنظیمِ نو کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مزدوری لاگت کے باعث کئی صنعتیں بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ بیجنگ سپلائی چینز کے تحفظ، پیداواری نیٹ ورک کی تنوع اور علاقائی اقتصادی روابط کو بھی مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کو فوری طور پر سرمایہ کاری، صنعت کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے۔

اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کمپنیوں کو مقامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پاکستان میں صنعتیں منتقل کرنے کی دعوت دی۔ اسلام آباد کا پیغام محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک عملی اقتصادی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ پاکستان خود کو صرف انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کی منزل کے بجائے چینی سپلائی چینز اور علاقائی منڈیوں سے جڑے مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

چینی کمپنیوں جیسے سی اے ٹی ایل اور اسٹار چارج کے ساتھ ملاقاتیں اسی تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ اب گفتگو صرف تعمیراتی منصوبوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بیٹری ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام جیسے شعبے مرکزِ توجہ بن چکے ہیں، جو مستقبل کی عالمی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

زراعت بھی آئندہ تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر سامنے آئی۔ پاکستان نے زرعی مشینری، بیجوں کی جدید ٹیکنالوجی، ایگرو پروسیسنگ اور زرعی برآمدات پر زور دیا۔ پاکستان میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ زراعت آئندہ مرحلے میں برآمدات، روزگار اور دیہی معیشت کے فروغ کا سب سے حقیقت پسندانہ ذریعہ بن سکتی ہے۔

گوادر بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہا، تاہم اب اس سے متعلق سوچ میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ پہلے بحث زیادہ تر گوادر کی بندرگاہ اور اس کی تزویراتی اہمیت تک محدود تھی، لیکن اب اسے لاجسٹکس، صنعتی زونز، بحری تجارت اور مغربی چین، پاکستان اور خلیجی خطے کو ملانے والے اقتصادی راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سوچ وسیع تر جیو اکنامک تبدیلی کی عکاس ہے۔

اس دورے پر خطے کی صورتحال بھی اثرانداز رہی۔ ایران تنازع اور خلیجی خطے کی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ بدستور غیر مستحکم ہے۔ پاکستان اور چین نے ملاقاتوں میں سفارت کاری، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام پر زور دیا۔

ایران بحران سے متعلق پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو بیجنگ میں مثبت انداز میں دیکھا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ چین پاکستان تعلقات اب جنوبی ایشیا سے آگے بڑھ کر مشرقِ وسطیٰ تک وسیع تزویراتی ہم آہنگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

تاہم تعلقات کے کچھ مشکل پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران وعدوں اور عملی نتائج کے درمیان فرق پر تنقید بڑھی ہے۔ سی پیک سے وابستہ صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کے کئی اہداف ابھی تک مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔

دوسری طرف چین کے اپنے خدشات بھی بڑھتے گئے ہیں۔ چینی شہریوں کی سلامتی، منصوبوں میں تاخیر، بیوروکریسی کی پیچیدگیاں، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور پاکستان کی معاشی مشکلات نے بیجنگ کو زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔ چین اب علامتی اعلانات کے بجائے معاشی طور پر پائیدار، محفوظ اور قابلِ عمل تعاون پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ تعلقات کا موجودہ مرحلہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ عملی دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دورے کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا کہ اب معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو عملی سرمایہ کاری اور فعال منصوبوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔

اسی لیے بیجنگ میں ہونے والا یہ قیادتی اتفاقِ رائے چین پاکستان تعلقات میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے لیے بدستور نہایت اہم ہے۔ چین پاکستان کو سفارتی حمایت، دفاعی تعاون اور معاشی مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ پاکستان چین کے لیے مغربی روابط، علاقائی رسائی اور وسیع تر جیو اکنامک حکمتِ عملی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

تاہم مستقبل میں اس تعلق کی سمت کا انحصار بڑی حد تک پاکستان کی داخلی کارکردگی پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد، حکمرانی میں اصلاحات، صنعتی صلاحیت، پالیسیوں کا تسلسل اور سکیورٹی وہ عوامل ہیں جو اب اس تعلق کے مرکز میں آ چکے ہیں۔ یہی طے کریں گے کہ سی پیک 2.0 پاکستان کی حقیقی معاشی تبدیلی کا سبب بنتا ہے یا ایک اور بڑے مگر جزوی طور پر پورے ہونے والے وعدے تک محدود رہتا ہے۔

بیجنگ سے ابھرنے والا بڑا پیغام واضح ہے: چین اور پاکستان صرف ایک پرانی تزویراتی شراکت داری کو برقرار نہیں رکھ رہے بلکہ اسے ایک ایسے بدلتے ہوئے عالمی ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں سیاسی اعتماد کے ساتھ ساتھ معاشی نتائج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ تعلقات مضبوط اور دیرپا ہیں، لیکن ان کے اگلے مرحلے کے لیے پاکستان کو پہلے سے کہیں زیادہ عملی صلاحیت، معاشی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں