واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد امریکا نے ایران پر مجوزہ حملے منسوخ کر دیے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت کے اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والی بات چیت اور منظوری کے بعد انہوں نے ایران پر طے شدہ فضائی حملے اور بمباری روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کی جگہ اور وقت کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کو ایک “بہترین مفاہمت” قرار دیا اور کہا کہ معاہدے سے متعلق دستاویزات تقریباً حتمی مرحلے میں ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ چند روز میں یورپ میں معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات کی ہے جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی رابطہ کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی اور ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس ہفتے کے آخر میں یورپ میں متوقع دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔
تاہم ایران نے اس حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تہران نے امریکا کے ساتھ کسی ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے مسودے کی ابھی تک منظوری نہیں دی۔
دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر ایران کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے اور عدم استحکام مزید پھیل سکتا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھی “عظیم شخصیات” قرار دیا۔
ایک اور بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے اہم نکات پر امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر فریقین کی سطح پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ مکمل ہونے تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
ادھر سعودی عرب نے بحرین، اردن اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
دریں اثنا ایران پر حملے منسوخ کیے جانے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ خام تیل اور امریکی خام تیل کی قیمتیں تین فیصد سے زائد گر گئیں، جس کی وجہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات قرار دی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اسی روز اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی اور اس کے اہم تیل کے تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم مغربی اور ایرانی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں نمایاں تیزی آئی ہے۔


