اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اتوار کو کہا ہے کہ چینی بجلی گھروں کے ساتھ ٹیرف میں کمی کے لیے جاری مذاکرات میں اب تک خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا، تاہم حکومت دیگر آزاد بجلی گھروں اور سرکاری پاور پلانٹس کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے ذریعے ساڑھے تین کھرب روپے سے زائد کی بچت حاصل کر چکی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم بجلی گھروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے، لیکن ابھی تک کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ حکومتی سطح کے فریم ورک کے تحت قرضوں کی ری پروفائلنگ کے ذریعے رعایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان سرمایہ کاریوں کا احترام کرتی ہے جو ایسے وقت میں پاکستان آئیں جب بہت کم سرمایہ کار ملک میں سرمایہ لگانے پر آمادہ تھے۔
وزیر توانائی نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا اتفاق رائے پیدا ہوگا جس سے بجلی کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی اور عوام کو مزید ریلیف مل سکے گا۔
اویس لغاری نے کہا کہ حکومت 29 نجی اور متعدد سرکاری پاور پلانٹس کے ساتھ بجلی خریداری معاہدوں پر نظرثانی، پرانے پلانٹس کی بندش اور معاہدوں کی تنظیم نو کے ذریعے تقریباً ساڑھے تین کھرب روپے کی بچت حاصل کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی لانا اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ان کے مطابق لائن لاسز میں کمی، پرانے جنریشن کمپنیوں کے ملازمین کی تقسیم کار کمپنیوں میں منتقلی اور بہتر مالی نظم و ضبط کے باعث بجلی کے شعبے میں سبسڈی کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بجلی سبسڈی گزشتہ سال ایک کھرب ستائیس ارب روپے سے کم ہو کر رواں سال آٹھ سو نوے ارب روپے رہ گئی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں اسے مزید کم کر کے آٹھ سو تیس ارب روپے تک لانے کا ہدف ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں مختلف صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق مئی دو ہزار چوبیس سے مئی دو ہزار چھبیس کے دوران گھریلو صارفین کے لیے اوسط بجلی نرخ میں سولہ فیصد کمی ہوئی، جبکہ کمرشل صارفین کے لیے آٹھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کو سب سے زیادہ ریلیف ملا، جہاں اوسط ٹیرف میں تینتیس فیصد کمی آئی، جبکہ جنرل سروسز، بڑے صارفین اور زرعی شعبے کے نرخ بھی بالترتیب دس، تیرہ اور چودہ فیصد کم ہوئے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ قومی اوسط بجلی نرخ دو سال قبل تریپن روپے چار پیسے فی یونٹ تھا جو کم ہو کر مئی دو ہزار چھبیس میں بیالیس روپے چھبیس پیسے فی یونٹ رہ گیا۔
انہوں نے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کے حوالے سے کہا کہ منصوبہ ڈیزائن خامیوں کے باعث گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے بند ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ سو ارب روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے کی مرمت میں مزید ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے۔
ان کے مطابق منصوبے کی بندش سے اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ سستی پن بجلی دستیاب نہ ہونے کے باعث مہنگی بجلی خریدنا پڑ رہی ہے۔
وزیر توانائی نے کم آمدن والے صارفین کی سبسڈی ختم کیے جانے کی خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مستحق صارفین کی درست نشاندہی کے لیے کیو آر کوڈ رجسٹریشن نظام متعارف کرایا ہے تاکہ سبسڈی صرف اہل صارفین تک پہنچ سکے۔
ان کے مطابق ایک ماہ کے دوران تقریباً بیس لاکھ سنگل فیز صارفین اس نظام کے تحت رجسٹر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مستحق صارفین کو سبسڈی بغیر کسی تعطل کے ملتی رہے گی، تاہم ایسے صارفین کو رعایت نہیں دی جا سکتی جو متعدد میٹرز اور سولر پاور کے ذریعے اپنا استعمال کم ظاہر کرتے ہیں۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ پاکستان میں سولر بجلی کی پیداوار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اندازہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں اس کی مجموعی صلاحیت پچاس ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی، جبکہ اس وقت یہ بیس ہزار میگاواٹ سے کم ہے۔


