اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے منگل کو کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ غالباً 12 جون کو پیش کیا جائے گا، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 10 جون کو طلب کرنے کے لیے سمریاں ارسال کر دی گئی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاسوں کی تیاری جاری ہے، تاہم بجٹ پیش کرنے کی حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔
بجٹ شیڈول میں غیر یقینی صورتحال کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت، اس کے اتحادیوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان جاری مذاکرات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاق نے اسٹریٹجک اور قومی ضروریات کے لیے ایک کھرب روپے سے زائد اضافی وسائل کی ضرورت ظاہر کی ہے، جس پر اتفاق رائے تاحال نہیں ہو سکا۔ اسی وجہ سے اقتصادی سروے پاکستان اور بجٹ کے اجراء کا نظرثانی شدہ شیڈول بھی جاری نہیں کیا جا سکا۔
دوسری جانب قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، جو پیر کو منعقد ہونا تھا، آخری وقت میں تیسری مرتبہ ملتوی کر دیا گیا۔ یہ تعطل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کے حصے منجمد کرنے کی تجویز پر جاری اختلافات کے باعث پیدا ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے تصدیق کی کہ وفاق نے صوبوں کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں ان کے این ایف سی حصص میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور موجودہ حصے سے زائد حاصل ہونے والی رقم وفاق کو واپس کرنا ہوگی۔
مزمل اسلم کے مطابق صوبوں نے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے صوبائی بجٹ خسارے کا شکار ہو سکتے ہیں اور حکومتوں کے لیے انتظامی و ترقیاتی امور چلانا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکام نے تجویز دی ہے کہ صوبے اخراجات کم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منجمد کریں اور ترقیاتی منصوبوں کو محدود رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ این ای سی اجلاس کی نئی تاریخ کے بارے میں بھی صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ کئی اہم مالی اور آئینی معاملات ابھی حل طلب ہیں۔ ان کے بقول مرکز اور صوبوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی بجٹ میں مزید تاخیر کا امکان موجود ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود وفاقی حکومت اور اس کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان بجٹ کے بنیادی خدوخال پر پیش رفت ہوئی ہے۔
پیر کو ایوانِ صدر میں ہونے والے تیسرے دور کے مذاکرات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کے وسیع فریم ورک پر اتفاق رائے تک پہنچ گئیں۔
اجلاس کی صدارت صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی وفد کی قیادت کی۔ دونوں جماعتوں کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے مذاکرات میں شرکت کی، جو وفود کی سطح اور بعد ازاں اعلیٰ قیادت کی سطح پر دو مراحل میں منعقد ہوئے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی مالی اور بجٹ سے متعلق مطالبات پر مزید سیاسی اور تکنیکی مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔


